خود کلامی کے کٹہرے میں

یہ ہے تشخیص اندیشہ۔۔۔۔ بتا کیا ہے؟

گزرگاہوں میں کیوں ہر سو وبا سایوں کی پھیلی ہے

یہ کیسی گردشیں ہیں شہر میں یکساں تغّیر کی

مسیحا بے شفا موسم کا نسخہ

زرد پتے کے لئے تجویز کرتا ہے

نہایت دردمندی اور دل داری سے

نبضِ شاخ پر وعدے کی نازک انگلیاں رکھ کر

وہ اسمِ صبر پڑھتا ہے

بڑے رقّت زدہ لہجے میں کہتا ہے

ہم اپنی روح کے بے آسماں قلزم میں

اپنے جسم کے تختے پہ بیٹھے ہیں

ہمیں

ممکن بھی ہے، زورِ ہوا ساحل پہ لے آئے

وگرنہ سراٹھاتی موج کا انداز

یوں ہے جس طرح جلاد نے تلوار سونتی ہو

اگر ہونا، نہ ہونا حادثہ ہے یا مقدر ہے

تو پھر اپنی حسوں میں

بے سبب ہیجان پیدا کر کے کیا لو گے

سنو! اس چشم کم بینا سے ایسی دوریوں کو دیکھنے کی

خواہشیں اچھی نہیں ہوتیں

عجب بے اعتدالی ہے صور کی

کسی نیاتہ جنت کے سپنے دیکھتے رہنا

یہ سایہ جو تمہیں آزار لگتا ہے

ہمیشہ دھوپ کے ہمراہ آتا ہے

جنم کے ساتھ وابستہ ہیں سارے سلسلے غم کے

نہ دو خود کو یہ ایذا، یہ سزا

بے اطمینانی کی

اسے آتا ہے اپنے فائدے کی منطقیں

ایجاد کر لینا

یہ بے اقدار مجلس

منعقد ہوتی رہے گی تا ابد اس کی صدارت میں

مرا آدرش سورج ہے

میں شب گلشنوں سے قمقموں کی روشنی میں

پھول کیں توڑوں

یہ صلحیں میری فطرت کے منافی ہیں

یہ اُس کا فیصہ پستی میں رہنے کا

زمیں کے آسماں کی سمت اٹھنے کے پرانے خواب کی

تردید کرتا ہے

اُدھر وُہ نظریے کا جال مجھ پر پھینکتا ہے

اِس طرف

اس منفعت خواہوں کی بستی میں

مجھے مجھ سے جدا کر کے

ہدایت کوئی دیتا ہے

مجھے بہتے ہوئے بازار کے گرداب زر میں ڈوب جانے کی

انا کا آخری قلعہ

جہاں کا ایک ہی درپستیوں کی سمت کھلتا ہے

جہاں سے میں اگر چاہوں

اُتر سکتا ہوں اس انبوہ میں

نااجنبی ہو کر

مگر یہ روشنی دل کی

مجھے آنکھیں لٹانے کی اجازت ہی نہیں دیتی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s