خواب در خواب

دیکھئے

دائرہ در دائرہ۔۔۔۔ ایک سے پیلے دنوں کو

ایک جیسی ظلمتوں میں ڈوبتے

طائروں کو دُور کی اونچائیوں سے لوٹ کر اپنی طرف آتے ہوئے

منظروں سے گرد کی چادر کو بے ہیجان ہاتھوں سے ہٹا کر

دیکھئے

سبز دن کی شاخ پر دلدار چہروں کے گلاب

جوزیاں ہوتے ہوئے احساس کی سہ پہر میں پرچھائیاں

بنتے رہے

دھونڈئیے

اُن بستیوں کو

جن میں سورج بھیجتا تھا روز صبحوں کا پیام

کون تھے، وہ کون تھے

جن کی آنکھوں پر اُترتے تھے صحیفے خواب کے

اور خود سے پوچھئے

اُن امنگوں سے دھڑتی ساعتوں کے بیج

کن بنجر زمینوں پر گرے

حشک سالی کیا ہماری عُمر کا مقدور تھی؟

یہ بھی ممکن ہے

ہماری جستجو سے دُور نادریافت کردہ منطقے موجود ہوں

جو اچانک منکشف ہو جائیں کل کی آنکھ پر

اور ہرکارہ ہمارے بے پتہ گھر پر

ہمارے نام کی آواز دے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s