بے وعدہ عمروں کے بن باس میں

آج بھی فرشِ شبِ دیر بز پر

آسمانوں کا بہشتی دھوپ کا چھڑکاؤ کرنے آئے گا

اور دوشیزہ ہوا کی نرم و نازک انگلیاں

کھول کر نظمِ مناظر کی کتاب

رنگ و خوشبو، نور و نغمہ کے ورق اُلٹائیں گی

جسم کے آنگن میں پھیلے گی شفق کی سنسنی

آج بھی اپنے دریچے سے اُسے جاتے ہوئے دیکھوں گا

دفتر کی طرف

اور اس لمحے کے پس منظر میں آئیں گی نظر

لڑکیاں جو رات کے سپنوں کے گلدستے لئے

صبح دم آتی تھیں رو دِنیل پر

جب اجالا دِل کے مندر میں بجاتا تھا سنہری گھنٹیاں

تو گلابوں کی لچکتی ٹہنیاں

عکس اندر عکس پانی میں بہاتی تھیں نیازیں

اپنے پیاروں کے معطر نام پر

اور چکنائے ہوئے تانبے کی رنگت کے بدن

گُد گُدی محسوس کرتے تھے کسی کے لمس کی

بھیجتے تھے ایک پیغامِ تصوّر۔۔۔۔

ایک سندیسہ کرن کی لوچ سے لکھا ہوا

بادِ صبا کے ہاتھ کل کے وصل کا

اور میں دیکھوں گا اُس کو آج بھی سہ پہر کے رستے سے گھر آتے ہوئے

ایک خالی پرس اپنے نیم جاں کندھے سے لٹکائے ہوئے

اُس کی آنکھوں میں نظر آئے گا

بے اقرارلمحہ۔۔۔۔جانے کتنی دیر سے ٹھہرا ہوا

اور چوبی انگلیاں تھامے ہوئے ہوں گی

کسی تقدیس کی خوشبو،

کسی بے نام سپنے کی کتاب

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s