بے نوشتہ نظم کا پیش لفظ

میں کفِ دست کی اوٹ میں

سوچ کا پھڑ پھڑتا دیا لے کے چلتا ہوں

جذبوں کے جنگل میں، نعرے لگاتی ہواؤں کی یلغار میں

کیا خبر وہ تنا کی دیوی لبِ آب آئے نظر

غسلِ مہتاب کرتے ہوئے

اس کی عریانیاں

منکشف ہوں لہو کی مچلتی ہوئی لہر پر

روشنی کے کنول کی طرح

ہنِ لفظ پگھلا ہوا موم بن کے ٹپکنے لگے

اور بہری سماعت سُنے ٹوٹتی جھاگ کی تھرتھری

اور مس ہوں مِرے جسم کی وح سے

میرے امکان کی سرحدیں

جانتا ہوں کہ میں آج بھی لَوٹ آؤں گا

کالک میں لپٹی ہوئی انگلیں

بے افق، بے نشاں چاند کی سمت

تکتے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s