افریقہ۔۔۔ اگلے محاذ پر

عشر نے دھاوا بولا ہے

دیکھ! سفید انسانیت کے خیموں پر

پنجے سخت طنابوں کے

جنگل کے محکوم بدن پر ڈھیلے پڑتے جاتے ہیں

کل کے طبل پہ چوٹ پڑی ہے

دیکھ! تڑپتی شہ رگ کی

ہر ہر بستی میں مینار الاؤ کے

روشن ہوتے جاتے ہیں

کل آزادی کی ہریالی پھوٹے گی۔۔۔۔ اور یہ بیلیں

پیڑوں کا رس پینے والی نیلی بیلیں

جڑ سے کاٹی جائیں گی

دیکھ! وہ ٹوٹا (قلعے جیسا)

اور اک جالا مکڑے کا

پرچم سی آنکھیں پربت پہ نصب ہوئیں

امبے او کے ہاتھ میں دستاویز ہے

کل کے سپنوں کی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s