آئینہ نما

یہ جنگل

کس بے معنی سفاکی کے اندھیرے سے

ٹوٹ کے بے ہییت ہوتے اس موسم میں

بے بخشش ہاتھوں کی جانب تکتا ہے

دیکھ! اکارت جاتی سرد صدی کے منظر نامے میں

نخلِ بے تقدیر کھڑا ہے

بھوک کے سناٹے میں گرتے پتے پر

اس کے اپنے نام کے آگے

میرا نام بھی لکھا ہے میں کہ ان بے اشک آنکھوں سے

اُس کی خاطر

اپنے کل کی ظلمت کے امکان کی خاطر

ایک کرن کی خواش خوابی پیدا کرنے سے قاصر ہوں

میری دنیا کے مرکز میں ڈھیر لگا ہے سایہ سایہ لاشوں کا

اور زمستاں کا سورج اس پربت کے

لمبے سائے ڈال رہا ہے خودمحصور مکانوں پر

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s