یا ربے پروا

مجھے ملنے نہیں آیا

عظیم الشان سٹاٹے کی اس اقلیم میں

شاید مجھے تنہا، بہت تنہا حسن ابدال تک جانا پڑے گا

ایک متحرک خلا کے ساتھ

اک بے انت دُوری کے سفر پر

کیوں نہیں آیا

ہمیشہ کا وہ سیلانی

ذرا اُس کو صدا دو

وہ یہیں اُس کو صدا دو

اُن خوشبوؤں کی اوٹ میں شاید چُھپا ہو

کیا خبر وہ یارِ بے پرواہ کسی چاہت کے کُنج خواب میں

دبکا ہوا ہو

ہاں صدا دو نا!

مجھے تم اس طرح کیوں تک رہے ہو

میں نہیں روؤں گا

میں بالکل نہیں روؤں گا

کیسے مان لوں وہ میرے آنے پر مجھے ملنے نہ آئے

وہ یہیں ہو گا، یہیں ہو گا

مجھے تم کل اِسی رستے پہ اُس کے ساتھ دیکھو گے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s