گرتے ستون کا منظر

یہاں سے آگے نشیب ہے اور اُس سے آگے

غروب کی گھاٹیاں ہیں ، جن میں

لڑھک کے روپوش ہو گیا ہے

سوار دن کا

ذرا ذرا سے چراغ لے کر ہتھیلیوں پر

چلے ہیں با بالشتیے اندھیرےکے چوبداروں کے پیچھے پیچھے

قدم ملاتے ہوئے صدا پر صدا لگاتے

بتاؤ یہ آنکھ کا خلا ہے کہ وقت کاشہ نشیں ہے خالی

کہاں گیا ہے مکیں مکاں کا

کُھلا ہے دروازہ آسماں کا

یہاں سے آگے

چبوترے سے اترے کے اک عکس روشنی کا

چلا ہے بے انت بُھول کی

گیلری کی جانب

جہاں عجائب سجے ہوئے ہیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s