چکور دستک اور صلیب

جب جسم تراٹیں مارے گااور روح پچھل پائی کی طرح پچھواڑے میں

چِلاّئے گی

جب ریت کی پیاس سلیٹی سی، ہونٹوں کی پپڑی کے نیچے

ایسا کہرام مچائے گی

کہ بیٹے اپنے باپوں کی پہنائی ہوئی زنجیروں کو

ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں گے

اُس وقت کے موسمِ فردا میں

سلوٹ سلوٹ چہرے والا۔۔۔۔ تاریک زمانے کا کاہن

گھر گھر میں سچ سندرتا کی

نشری آواز لگائے گا

ترمیم کے معبد کے اندر

تربیت کے رنگین پیویلین کے نیچے

کچھ تازہ بھینٹ کی خوشبوئیں

کچھ مخفی راگ کی سُرتانیں

سلگائے گا

سب آئیں گے

لے لے کر آنکھ ہتھیلی پر سپنے اپنے

پھر اگلے دن کے چوک پہ ہم

خود اپنے آپ تماشائی

سرکس کے چیتے دیکھیں گے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s