نیم اجنبیت کے پُل پر ایک شام

یہ کم کم رنگ، یہ برسے ہوئے بادل کے ٹکڑے سے

مری آنکھوں کے خالی آسماں پر

کتنے برسوں سے معلّق ہیں

یہ کیسی خوشبوئیں ہیں جو کہ جینے کی گلابی

چسکیوں میں مجھ کو رک رک کے پلاتی ہیں

یہ رشتے کیا ہیں

کیوں پتا شجر سے ٹوٹ جاتا ہے

یہ چاہت کی ہوس جہدِ بقا کے سیپ میں پلتی ہے

یا کہ سچ کا موتی ہے

مِری آنکھیں کھُلی ہیں

لیکن اتنی کیوں نہیں کھُلیں

کہ ظرفِ لفظ میں جھانکوں

خداوندا! تری کوتاہ دستی،

مجھے جینے نہیں دیتی مجھے مرنے نہیں دیتی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s