میں کیا کرتا!

آراکش نے

الف انا کو کاٹ دیا

اپنے سائے پر اوندھا گرنے والا

میں تھا۔۔۔۔لیکن کیا کرتا

میرے شہر کی ساری گلیاں

بند بھی تھیں متوازی بھی تھیں

تختیاں ہر ہر دروازے پر

ایک ہی نام کی لٹکتی تھیں

میں کیا کرتا

شہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیں

میرے نام پہ میرے آگے حائل تھیں

کوہ شمائل دیواریں

جن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ تھا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s