میرِ نابلس

کہا اُس نے مجھے آنکھوں ہی آنکھوں میں

لہو میں لہرئیے سے ڈالتی بے لفظ سرگوشی کے لہجے میں

گواہ رہنا

میں اتنی دُور سے چل کر تمہارے پاس آیا ہوں

اگرچہ وہ میری ٹانگیں

دھماکے سے اُڑا کر مطمئن ہوں گے

انہوں نے سچ کے شاہد کو اپاہج کر دیا ہے

تم گواہ رہنا۔۔۔۔ تمہارے سامنے روندا گیا ہوں

اور میں چل کر تمہارے پاس آیا ہوں

ذرا دیکھو!

گلابی روشنی بیدار آنکھوں کے اُفق پر رونما ہو کر

ضمیروں کی فضا میں رچ رہی ہے

اور اک اک روح میں

پرچم کشائی کر رہی ہےں سچ کی آوازیں

کہو! کیا بند آنکھوں میں شفق کو پھولتے محسوس کرتے ہوئے

ضمیروں میں ملامت کی رگیں اُبھری ہویء ہیں

اور مقناطیس کے حلقے میں ایک رُخ ہو رہی ہیں

سچ کی آوازیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s