مہر نیم شب

صدیوں گہرا سٹانا تھا جب اُس کو

گہنایا گیا

میں بھی خاموشی کی اس کالی سازش میں شامل تھا

میرے ہونٹوں پر بھی چُپ کے پہرے تھے

سناٹا ہی سناٹا تھا

پھر تاریخ کا اگلا ورق اُلٹایا گیا

شور اُٹھا اور

اس بے ساحل شور کے اندر سات سمندر ڈوب گئے

اور زمین جو بنجر تھی، آناً فاناً سرسبز ہوئی

پھر اُس کی آواز۔۔۔۔ صدائے آئندہ کا

ایک تناور پیڑ اُگا

جس کے سبز بدن سے جھلمل کرتی شاخیں

آوازیں ہی آوازیں

کرنوں کے جھرنے بن بن کر پھوٹ بہیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s