منجمد ندی کی زنجیر

آہنی نظرئیے کی کمیں گاہ سے چھپ کے حملہ کرو

اور معصومیت کی سزا دو مجھے

اپنے دانتوں سے کھودو مرے جسم میں خون کی تہہ تک

بربریت کا گہر کنواں

ہاں مگر آنکھ کے طاق میں نظم کا دیپ رکھے ہوئے

آؤں گا میں درِ آسماں کے بڑے چوک سے؁اگلی رت میں شہیدوں کے تہوار پر

عہد کے سرخ پھولوں پہ اُڑتی ہوئی تتلیاں

اپنے رنگوں کے چھینٹے اُڑاتے ہوئے

شعر کے لفظ بن جائیں گی

آسماں کی طرح یہ کشادہ زمیں

اپنے سینے میں ا۔ترے ہوئے، کوہ کی میخ کو

کھینچ کر پھینک دے گی پر

اور پھر نظرئیے کی کمانی سے چلتی ہوئی سانس کا قاعدہ

پانیوں کے ہرے معجزوں کے نمو میں

بدل جائے گا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s