زید آ

رات کے کھیت سے پھوٹتی رُت کی خوشبو اُڑی

جسم میں آہٹیں سی ہوئیں

نوجواں فصل کو کاٹنے کے لئے

دستِ آئندہ آگے بڑھا

خون میں ڈوب کر گولیاں گنگنانے لگیں

روشنی سے سلگتے ہوئے چوک میں جرأتیں

سرلٹانے لگیں

زید آہم بھی شامل ہوں بیساکھ کے جشن میں

ورہ اس جہل کی اوٹ میں چُھپ کے بیٹھے ہوئے

کیسے بچ پائیں گے

سچ کی دوپہر

یلغار کرتی ہوئی ڈھونڈ لے گی ہمیں

ہم کہ آنکھوں کو اپنے ہی سائے سے ڈھانپے ہوئے

اور اپنے ہی پیچھے کھڑے

خود کو خود سے چھپانے کی کوشش میں مصروف ہیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s