دن دریا

اے جنگجوؤ!

ان شامو ں پر یلغار کرو

آتی ہیں جو آگے پیچھے

کتبے لے کر، دھندلائے ہوئے پیغاموں کے

آؤ، آؤ

اگلے دن کو مسمار کرو

یہ کیا کہ کل بھی جینا ہے ان شرطوں پر

جو مجھ پر عائد ہیں جن کو

لکھا ہے نابیناؤں نے

آنکھیں آنکھیں۔۔۔۔ سب جمع کرو

بھر دو بھر دو ان روشنیوں میں لشکارے

پہنچائے مری سرگوشی کو شعلےکی زباں

ان بوندوں تک

جو قید ہیں ٹھہرے پانی میں

پھر لہروں کے، انبوہوں کے بازو اُٹھیں

ننگے پیروں کی طغیانی

ہموار کرے سب اونچی نیچی جگہوں کو

یہ باہوں کے سوکھے حلقے

پیارے بدنوں سے بھر جائیں

ہر قطرہ دریا بن جائے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s