بند دروازے میں کرن کی درز

ظلمت کا ہر عضو ہے بیج سیاہی کا

کٹ کر پھر اُگ آتا ہے

دھوپ میں اتنی کاٹ نہیں کہ میں اُں کو

اندر سے مسمار کروں

کل وہ چہرہ مسخ تھا اتنا آج جسے

میں تصویر سمجھتا ہوں

کیا میں رات کے جادوگرکے شہر میں ہوں

جامد آنکھ کے روزن سے

دیکھ رہا ہوں جو مجھ کو دکھلاتا ہے

یا میں بے معنی دنیا میں

زندہ رہنا سیکھ رہا ہوں

شاید میں پہچان کی بھول بھلیوں میں

گم ہوں

لیکن کیا یہ کم ہے

خواب کی مشعل ہاتھ میں لے کر چلتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s