اونیس۔۔ سفر کی قوس پر

خشک دریا کا کشکول

یہ پتنگیں۔۔۔۔ حوالے کے دھاگے سے ٹوٹی ہوئیں

ڈولتے ڈولتے گر رہی ہیں کہاں

وہ کہاں ہیں جو سرسوں کی پھیلی ہوئی دھوپ میں

بھاگتے تھے انہیں لوٹنے کے لئے

اس برہما! تِرے کھیت کے ٹھنٹھ کیسے اُگیں

پیاس سے ہانپتا ہے کنواں

سیپ اوندھا پڑا ہے تہی ہاتھ پر

کوئی تعویذ کا معجزہ

میرے اکڑے ہوئے جسم کو لوچ دے تو چلوں یا مری آنکھ کے زخم سے

گھنٹیاں سی بجاتا ہوا خوں ٹپکنے لگے

یا نگل لے مجھے

جھاگ کی کپکپی سی اڑاتا ہوا اژدھا

تو کہ ہے آسمانوں، زمینوں پہ پھیلا ہوا

منکشف ہو کہ میں

جی سکوں، مر سکوں

رائیگاں ہوں تو پھر نیستی کی سزا دے مجھے

اوس ہوں تو اڑا دے مجھے

(٢)

روشنی کی ابجد

وقت کی شاخ پر

کوئی اُڑتا ہوا ہنس اُترا ہے کیا؟

ارض کے انگ کو گداگداتی ہوئی کپکپی

دوڑتی پھر رہی ہے مِرے خون میں

اور اپریل کا اوّلیں آسماں

جُھک کے برسا رہا ہے زمینوں پہ ہریالیاں

یہ ملاپ اور تخلیق کا وقت ہے

سامنے چار سُو

اک الاؤ سی عورت ہے لیٹی ہوئی

خواب، سرخاب سے۔۔۔۔

آب کے عکس نیلی فضاؤں میں اُڑتے ہوئے

کائیوں اور گدلاہٹوں سے اٹی جھیل میں

بَو رہے ہیں کنول

کس کے آنے کا اعلان کرتے ہوئے

کل کا دہقاں مِری راکھ کو مٹھیوں میں سمیٹے ہوئے

بورہا ہے مجھے

میں کہ نابود ہونے کے ہیجان میں

پھتیلتا جا رہا ہوں زمانوں کو باہوں میں گھیرے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s