ہم

اے زمیں! گھاس تیری ہری نظم ہے

تو جسے ہر جگہ، ہر اُفق پر، سمندر کی گہرائیوں میں

سدا گنگناتی رہی

جو کبھی کوہساروں کے پرچم کا کتبہ بنی

تو زمستاں کے عفریت نے تیز داتنوں سے کترا اُسے

اور پھر کف اُڑا کے ہوا میں بکھیرا اُسے

راستوں میں اگُی

تو وہاں تہ بہ تہ گرد نے اُس کے نقشوں کو مدہم کیا

سبز معصومیوں کو سدا

منجنیق اور نیپام کی نفرتیں بدبوؤں سے شرابور کرتی رہیں

بارہا راکھ بکھری

زمیں پر کئی پیلے پیکر زمانوں کے شانے لگے

پر ہمیشہ ہوا یوں

کہ ماں سبز اولاد جنتی رہی

نظم بنتی رہی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s