کایا کا کرب

اُس نے دیکھا

وہ اکیلا اپنی آنکھوں کی عدالت میں

کھڑا تھا

بے کشش اوقات میں بانٹی ہوئی صدمیاں

کسی جلاّد کے قدموں کی آوازیں مسلسل

سُن رہی تھیں

آنے والے موسموں کے نوحہ گر مدّت سے

اپنی بے بسی کا زہر پی کی

مر چکے تھے

اُس نے چاہا

بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے

مگر شاخوں سے مُرجھائے ہوئے پتّوں کی صورت

ہاتھ اُس کے بازؤں سے

گِر چکے تھے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s