پیش لفظ

میرا وجدان اور شعور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں ایک نیم آفریدہ دنیا میں پیدا ہوں۔ ایک نامکمل منظر کی نامکمل شناخت کرنے کے لئے۔ میری روشنی کے علاقے میرے وجود کے اندر، باہر اور اس کے مضافات میں کہیں کہیں واقع ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے بیچ میں خلا ہی خلا ہیں۔ یہ علاقے نادریافت شدہ اسرار کے سمندر میں تیرتے ہوئے، اوجھ ہوتے ہوئے، ابھرتے ہوئے جزیرے ہیں۔ زنگی اپنی پہچان کے لئے مجھے مٹا کر پھر بناتی ہے اور بار بار ایک ہی نقش بنتا ہے، جس میں زندگی کا جوہر ایک لاتعلق خارجی یحقیقت سے دست و گریباں نظر آتا ہے۔ کیا یہ جنگ لامتناہی ہے یا ہارجیت کے بعیر ختم ہو جائے گی؟ میں زندگی کے حق میں کوئی گوہی نہیں دے سکتا۔ وقت کی سمتیں اور ان کی طوالتیں میرے ادراک کے احاطے سے باہر ہیں۔

میرا حافظ میری فنا اور بقا کا حوالہ ہے اور میری تاریخ اس فنا و بقا کی جدلیت کو دستاویز ۔۔۔۔ ایک مسلسل تجربہ جو ماضی سے مستقبل کی روشنی تلاش کرتا ہے اور مجھے میرے تصّرف میں رکتھا ہے۔ میری آزادیوں کو مشروط کرتا ہے اور میرے امکانات کا رُخ ایک طے شدہ راستے، جس میں حادثوں کے کہیں کہیں خم ہیں، کی جانب موڑتا رہتا ہے۔ میں اس تجربے کی دریافت ہوں۔ اور استی رتہ کا آئندہ ہوں۔ تاریخ کا جبر کچھ ایسا ہے کہ میں اپنے آپ کو رد کر کے نئے سرے سے دریافت کرنا چاہوں تو شاید نہ کر سکوں۔

اجتماع معاشرت کی پناہیں پسند کرتا ہے۔ بکھر کر بے سمت ہو جانے کا خوف ایسا ہے کہ زمانہ اس کے ارادے کا اظہار بن کر اُسے اپنے کناروں کے درمیان رواں رکھتا ہے۔ اجتماع زندگی کی روئیدگی کا مظہر ہے اور برف پوش منطقتوں سے بچ کر چلتا ہے۔ چلچلاتی دھوپوں میں مفاہمت کی چھاےں اورھ لیتا ہے۔ فرد زندگی کا مرکزہ ہے جسمیں سرسبزی کی خواہش گھمسان مچائے رکھتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اجتماع کے ساتھ رہنے اور اس سے ٹوٹ کر الگ ہو جانے کی آرزو نے مجھے ہمیشہ مضطرب رکھا ہے۔ میں نے تند ہوا کو درخت کی لچک کا تاوان بھی دیا ہے اور دوسروں کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے، راہداری کا پروانہ حاصل کرنے کے لئے اپنی روح کا داغا جانا بھی قبول کیا ہے۔ اگر ایسا ہ کرتا تو اقرارکی یہ نظم کیسے لکھتا جو زندگی کے سامنے رکھی ہوئی لوحِ سنگ پر ہونے، نہ ہونے کا منظر نامہ مرتب کر رہی ہے اور کیسی عجیب بات ہے کہ دُکھ کے معرکہ زار میں، میں خود اپنے مقابل کھڑا ہوں۔ کبھی اپنے سامنے زمانے کی دیوار بن کر اور کبھی اپنی راہ میں پہچان کے قدےکا لمبا سایہ بن کر۔

زید اور میں خواب دیکھتے ہیں۔ زید وہ فدِ اول یا عنصری انسان ہے جس کی بنیاد پر میں نے اپنی معاشرتی شحصیت کی تعمیر کی ہے۔ ہم دونوں جبر کے شاہی قلعے کے زندانی سردف سلوں پر سوتے ہیں اور دُور کے اس شہر کی جانب دیکھتے رہتے ہیں جہاں محبت اور آزادی کے مندر میں داسیاں ناچتے ناچےت خود اپنی خوشبو بن جاتا ہیں۔ حسن منکشف ہو کر وصل کی بشارتیں دیتا ہے اور اک فردِ دگر کی آفرینش گزرے ہوئے حوالوں کو نابود کر دیتی ہے۔ ہر لمحہ تخلیق کا لمحہ بن جاتا ہے۔ ایک کرب جس میں سارا وجود پگھل کر بہتے ہوئے اپنی وسعتیں پا لیتا ہے۔ اور اس خواب کی سیرگاہ بے محیط ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رخشِ ارض کی پسلیوں سے رستے ہوئے لہو سے تقدیر کی مہمیز سرخ ہے اور خلاؤں کو پھندتے ہوئے سموں سے ستارے اُڑ اُڑ کر نئے آسمانوں کو جنم دے رہے ہیں۔ ہر فراز اگلے فراز کی دہلیز بنتا جا رہا ہے۔

اور ہمارے ملکِ خواب میں فردازاد رہتے ہیں۔ خوب صورت، توانا، معصوم، جو اندر اور باہر کی ساری دیواریں مسمار کر چکے ہیں۔ جو رفتہ و آئندہ کے درمیان محصور نہیں بلکہ آزادیوں کے ارتفاع سے دریا کو ساری سمتوں میں رواں دیکھتے ہیں۔ جو کل کے شہر کو جلا کر زرمُوش کی وبا سے ہمیشہ کے لئے نجات پا چکے ہیں۔ جہاں مساوات ہے، انسان، انسان کا استحصال نہیں کرتا۔ محبت بونے والے روشنیاں اگاتے ہیں۔ کیسی من ہر زمین ہے جہاں ہ خان قوت کی ثقالت ہے نہ کا تعفّن چاہتوں کی نرم ہوا دما دم چلتی رہتی ہے۔ اور خواب دیکھنے سے ہمیں کون روک سکتا ہے! فطرت، تخّیل کی دلہن ہے۔ ہم خواب دیکھتے رہیں گے۔ ہمیں اُس کی بیوگی منظور نہیں۔

جہاں میرے آورش کا سورج طلوع ہوا، وہ یہی خطہءِسبز قبا ہے جو پسماندگی کا کشکول تھامے وقت سے رفتار کی بھیک مانگ رہا ہے۔ میں ساری گزری ہوئی عمر سے اپنی گلیوں میں ناداری اور جہل کو دھمال ڈالتے دیکھ رہا ہوں۔ نامعلوم انگلیاں پیادے کو گھر، بازار اور دفتر کے سفید اور سیاہ خانوں میں نچاتی رہتی ہیں اور بے معنویت کا یکساں سفر جاری ہے۔ کچھ بڑے ہیں، جو بہت برے ہیں۔باقی سب کے سب چھوٹے ہیں۔ دنیاداریوں کو تقدس کے غلاف میں لپیٹ کر اونچے طاقچوں میں سجایا جاتا ہے۔ اشیاء سے محبت کی تلقین کی جاتی ہے۔ منافقت کے رائج الوقت سکے پر بے چہرے فرمانروا کا نقش چمکتا ہے۔ نامعلوم زور آور کی سّفاک ضرورت نے ایک اور ایکایک اور دوسرے کے درمیان فاصلے حائل کر رکھے ہیں۔ انسان کو نا انسان بنانے کا عمل جاری ہے۔ لیکن میں جو گزری ہوئی نسلوں کے ساتھ اپنی اس سرزمین پر قدم بہ قدم چلا ہوں، مایوس نہیں۔ کیونکہ مجھے کل بھی آنا ہے۔ کیا خبر کہ دکھ کی یاترا سے جب لوٹوں تو مجھے معنی کے اور بلندیوں کے سفر کا سراغ مل جائے۔

لفظوں کو توڑنے اور جورنے کا عمل حرارت پیدا کرتا ہے لیکن صرف اتنی کہ اس سے شب زار معنی میں شمع جلا سکیں۔ ہمارے حواس ان کے اور یہ ہمارے حواس کے محتاج ہیں۔ ہاں۔ اس اتبار سے قابلِ قدر ہیں کہ ان میں انکار کی جرأت بھی ہے اور اقرار کی توانائی بھی۔ یہ سچ کی رو کو اپنے اندر سے گزرنے دیتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر جڑوں کی مانند پھیلے ہوئے ہیں اور شاخ نطق سے پتّیوں کی طرح پھوٹتے ہیں جن میں نصف سچائی کی ہریالی ہوتی ہے۔ انہی لفظوں کی روشنائی سے میں نے یہ نظمیں لکھی ہیں۔

آفتاب اقبال شمیم

مئی ١٩٨٥

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s