پردہ گرتا ہے

لے تجھے

پھینکتا ہوں فرش پر

ٹوٹ، ٹوٹ، ٹوٹ جا

میں چلا ہوں دُور اس مکاں سے دُور

بوٹ سے مسل کے اپنے نام کو

اے جہالتوں کی رات!

آ جھپٹ کے نوچ لے

اِن تنے ہوئے سروں کی آبرو

اے غرور کے خُدا

بے شعور کر مجھے

ریت، ریت، ریت ہر طرف اُڑا

بے محیط آندھیوں کی نفرتیں

ناچتی رہیں دھڑوں کے ڈھیر پر

سمفنی

میرے سات نوجوان بھائیوں کی موت پر

چیخ وار قہقہے، چیخ اور قہقہہ

دیک! اُس غروب کی زمیں کو دیکھ

جس پہ گر کے مر گئی

کُل جہاں کی روشنی

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s