نیلی گرد کا زمزم

میں تخّیل کے تشدّد کا شکار

دیکھتا ہوں آسماں سے سایہ سایہ چیتھڑے گرتے ہوئے

سُن رہا ہوں

پھڑ پھڑاتی دھوپ کی پیلی صدا

درد کی بوڑھی چڑیلیں

آنکھ کے صحرا میں اپنی ریتلی آواز میں سب کو پکاریں

آؤ آؤ

میں اکیلا اپنے سناّٹے میں، گردوپیش کے آشوب میں کھویا ہوا

چل رہا ہوں

راستے کے سنگریزے آنکھ سے چُنتے ہوئے

تاکہ پتھرائی ہوئی صر صرکی سڑکیں، رفتہ رفتہ میرے پاؤں چاٹ لیں

چل رہا ہوں

جانے کِس جانب مجھے جانا ہے، کیوں جانا ہے

شاید فاصلوں کی انتہا اُفتادگی ہے

اور شاید

منزلیں اُس واہمے کی موت کا منظر ہیں

جو تازہ لہو کے آئینے کا عکس ہیں

اور کیا معلوم۔۔۔۔یہ بھی واہمہ ہے

کاش کوئی لفظ اپنی بند مٹھی کھول دے

اور کاغذ پر بجھی سطروں کا جال

مجھ پہ چاروں سمت سے آ کر گرے

کیا خبر آزاد ہو جاؤں لق و دق ریت کے کہرام سے

چیختی چیلیں زمیں سے سایہ سایہ چیتھڑوں کو لے اُڑیں

اور میں مٹی کی ننگی گود میں لیٹے ہوئے

آسماں کو اپنے اوپر اوڑھ  لوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s