نیا مسیحا

سنگ زادوں نے کہا

کوئی تمثال کے جادو سے ہمیں زندہ کرے

کوئی آواز

تحرّک کے نئے قاعدے ایجاد کرے

رنگ کی ذات ہے کیا؟

روشنی اور اندھیرا کیا ہے؟

بے گرہ ہو کے سوال

منکشف ہم پہ ہمیں کر جائیں

کوئی آواز ہمیں

آن کی آن میں ظاہر کر دے

نیم بینائیاں انوار کے چشمے میں دُھلیں

او ر ہم دیکھ سکیں دور نما رازوں کو

سنگ زادوں نے کہا

کوئی وہ ضرب لگائے جس سے لفظ دو نیم ہو، چنگاریاں ہر سُو برسیں

اور معنی کی تپش سے یہ زمستاں کی زمیں

دھوپ کے غسل میں عریاں ہو جائے اور ترسے ہوئے ہونٹ

لب بہ لب حسن کے منظر پی لیں

پھر وہ آیا تو صدائیں گونجیں

آؤ ہم بکھری ہوئی آنکھوں کی

کِرچیاں چُن کے نئے خواب کا منظر لکھیں

انگلیاں زخم کی تاثیر سے گرمائی ہوئی

عہد نامے کے نئے صفحے پر

آنے والے کی گواہی کو مکرّر لکھیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s