فردا نژاد ۔ منظوم پیش لفظ از یاور ماجد

(محترم آفتاب اقبال شمیم کی کتاب فردا نژاد کا دیباچہ جو انہوں نے لکھا اور میں نے اپنے شعری سفر کے اوائل میں منظوم کیا)

شعورووجد میرے مجھ کو ہر دم ہی بتاتے ہیں

کہ دنیا جس میں پیدا میں ہوا ۔۔۔ نا آفریدہ ہے !

میں آیا ہوں عدم تکمیل کے مارے ہوئے ایسے مناظر کو

ذرا تشنہ سی اِک پہچان دینے

کہ میری روشنی کے سب علاقے

مرے اندر، مرے باہر، مرے دائیں، مرے بائیں کہیں ہیں

اور ان کے بیچ میں طرفہ خلا ہے

علاقے یہ کہ جیسے ہوں جزیرے

عجب اِک بحرِ پر اسرار کے اندر

چھپے ہیں، تیرتے ہیں، ڈوبتے ہیں اور ابھرتے ہیں

زِندگی!

مجھ کو مٹا کر پھر بناتی ہے

بنا کر پھر مٹاتی ہے

مگر ہر بار اِک ہی نقش بنتا ہے

کہ جس میں اس کا جوہر

عجب سی لا تعلّق خارجی سچّائی سے دست و گریباں ہے

تو کیا یہ جِنگ دائم ہی رہے گی؟

تو کیا انجام اس کا کچھ نہ ہو گا؟

جو پوچھو مجھ سے تو میں زِندگی کے حق میں کوئی بھی گواہی دے نہیں سکتا

کہ اس کی وسعتیں، گہرائیاں اور سرحدیں

مری پابند سوچوں کے احاطے ہی سے باہر ہیں

مرا ماضی!

مری اپنی فنا کا اور بقا کا اِک حوالہ ہے

مری تاریخ بھی میری فنا کی اور بقا کی جدلیت کی ایک دستاویز سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی

نہیں کچھ اس ذرا سے تجربے سے بڑھ کے

جو ماضی سے مستقبل کی صبحیں ڈھونڈتا ہے اور مجھے مصروف رکھتا ہے

مری آزادیوں کے راستوں کو بند کرتا ،

میرے امکانات کا رخ طے شدہ رستے کی جانب موڑتا ہے

وہ رستہ جس میں کتنے ہی حوادث کے ہزاروں موڑ بستے ہیں

میں حاصل ہوں اسی اِک تجربے کا،

اسی رستے کا آئندہ

مگر ان راستوں میں دور اتنا جا چکا ہوں،

کہ پھر سے اپنی خود دریافتی کے سارے امکانات اب معدوم ٹھیرے ہیں

اجتماع !

اِک ساتھ رہنے کی پناہیں چاہتا ہے،

بکھر کر ٹوٹ جانے کا تصور ہی کچھ ایسا خوف آور ہے

زمانہ اس ارادے کے مہیب اظہار کا دریا سا بن کے

رواں رکھتا ہے اس کو درمیاں اپنے کناروں کے

اجتماع !

مظہرِروئیدگی ء زندگی ہے

اور ٹھٹھرتی منطقوں سے دور رہتا ہے

دہکتی دھوپ میں آجائے تو ہر مرتبہ

نئے اِک روپ کی چھاؤں کی چادر اوڑھ لیتا ہے

فرد!

تو بس زِندگی کا مرکزہ ہے

جسے سرسبزی کی خواہش بہت بے چین رکھتی ہے

حقیقت پوچھتے کیا ہو!

مجھے تو اجتماعوں میں بسے رہنے کی خواہش

اور ان سے ٹوٹ کر دور اور الگ رہنے کی تشنہ آرزوؤں نے

ہمیشہ مضطرب رکھا ہے

میں نے تو ہوائے تند کو اپنی لچک کا بے بہا تاوان بھی بخشا

اور سب کی ہمرہی کو،

راہداری سے گزرنے کی اجازت کو

سسکتی روح کو بھی داغوایا ہے!!

اگر ایسا نہ کرتا تو

بھلا یہ نظم کیسے لکھتا جو اب زِندگی کے سامنے

رکھی ہوئی پتھر کی تختی پر

خود اپنے ہی نہ ہونے اور ہونے کا نظارہ دے رہی ہے

عجب مشکل تو یہ ہے رنج کے اس معرکے میں

مرے مدِّ مقابل اور کوئی بھی نہیں میں خود کھڑا ہوں!!

کبھی خود ہی زمانے کی کوئی دیوار بن کر

کبھی پہچان کے اونچے نکلتے قد کا کوئی سایہء بےکار بن کر

زید اور میں خواب تکتے ہیں

زید ہے وہ فردِ اوّل،

عنصری انسان ایسا جس کی بنیادوں پہ میرا

معاشرتی تشخّص قائم و دائم ہے

وہ اور میں جبر کے شاہی قلعے میں قید ہیں

اور برف پر لیٹے حسیں خوابوں کی دنیا میں اکٹّھے سیر کرتے ہیں

یہیں سے دور کے اس شہر کو حسرت سے تکتے ہیں

جہاں پر داسیاں،

محبت اور آزادی کے مندر میں تھرکتے ناچتے خود اپنی ہی خوشبو میں ڈھل جاتی ہیں

اور

پھر حسن خود کو منکشف کر کے خود اپنے وصل کی خبریں سنا تا ہے

اور اِک فردِ دِگر کی آفرینش،

گزارے سب حوالوں کو مکمل طور سے نابود کر دیتی ہے

ہر لمحہ ہی گویا لمحہء تخلیق بن جاتا ہے

میں اور زید دونوں کرب کے دریا کی لہروں میں

پگھل کر بہتے بہتے اپنی اپنی وسعتوں میں غرق ہو جاتے ہیں

اور یہ سیر گاہِ خواب بے سرحد ،

مکمل طور سے لا منتہی ہے

ہمارے سامنے تقدیر کی مہمیز اپنی سرخیاں،

زمیں کی پسلیوں کے بے بہا رِستے لہو

سے لے رہی ہے

خلاؤں کو سُموں جیسے ستارے

نئے افلاک دیتے ہیں

ہر اِک اٹھتا قدم اگلے فرازوں کی نئی دہلیز بنتا ہے

یہاں اس خوبصورت شہر میں فردا کے باسی رہ رہے ہیں

حسیں ہیں،

اورتوانا اور گنہ سے دور

جو اندر اور باہر کی ہر اک دیوار بالکل توڑ بیٹھے ہیں

جو رفتہ اور آئندہ کے پاٹوں میں نہیں پِستے

جو آزادی کے دریا کو سبھی سمتوں میں چلتا دیکھتے ہیں

جو کل کے شہر کو شعلے دکھا کر

نحوست سے بھرے زرموش کی بیماریاں سب تلف کر بیٹھے

وہاں سب ہی برابر ہیں

وہاں کوئی کسی کے حق کا غاصب ہو نہیں سکتا

محبت بو کے فصلیں روشنی کی کاٹتے ہیں

کہو، کیسی منوّر سی زمیں ہے،

جہاں پر چاہتوں کی باد رقصاں ہے

حسیں سپنوں کی وادی دیکھنے سے

ہمیں بولو تو آخِر کون روکے گا

یہ فطرت تو تخیّل کی دلہن ہے

اوراِس کی بیوگی اب ہم نہ دیکھیں گے

فقط ہم خواب دیکھیں گے

مرے آدرش کا سورج جہاں نکلا

وہ خِطّہ تو سدا اِک کاسئہ پسماندگی تھامے

زمانے سے ذرا سی تیز حرکت کی گدائی کو کھڑا ہے

میں اپنی بستیوں میں بچپنے سے

جہل اور غربت کو رقصاں دیکھتا آیا

کہیں سے دستِ نا معلوم پیادوں کو گھروں میں اور بازاروں میں ہر اِک پل نچاتا ہے

ازل سے اپنا لا یعنی سفر جاری و ساری ہے

یہاں پر کچھ بڑے ہیں

جو کہ بس بے حد بڑے ہیں

باقی سب کے سب ہی چھوٹے ہیں

یہاں بے معنی دنیا داریاں تقدیس کے مہنگے لبادوں میں سجا کر طاقچوں پر رکھی جاتی

ہیں

یہاں اشیاء سے الفت کی بہت تلقین ہوتی ہے

یہاں اِک دوسرے کے درمیاں کے فاصلوں کی وجہ

نامعلوم زور آور کی بے رحمانہ ضرورت ہے

یہاں انساں کو نا انساں بنانے کا عمل صدیوں سے جاری ہے

مگر میں جو کئی نسلوں سے ایسی سرزمیں میں منزلوں کو ڈھونڈتا ہوں

نہیں مایوس بالکل بھی

مجھے تو کل بھی آنا ہے

خبر کیا دکھ کی ایسی یاترا سے جب بھی لوٹوں

مجھے معنی کے، سر افرازیوں کے اس سفر کا

سراغِ خفتہ مل جائے

عمل لفظوں کے جڑنے اور تڑنے کا حرارت خیز ہوتا ہے

مگر صرف اس قدر

کہ شب زارِمعانی میں کوئی چھوٹی سی شمع جل سکے

مرے اور میرے لفظوں کے حواس انمول ہیں

کہ ان میں جرأتِ انکار اور اقرار کی قوّت برابر ہے

یہ سچ کی رَو کو اپنے بیچ سے بہنے بھی دیتے ہیں،

ہماری روح میں گویا جڑوں کی طرح پھیلے ہیں

ہمارے نطق کی شاخوں سے پتوں کی طرح کھِلتے ہیں

جِن میں نصف سچّائی کی ہریالی دکھاتے ہیں

انہی لفظوں کی روشن اور انمٹ سی سیاہی سے

مرے اندر کے شاعر نے یہ ساری نظمیں لکھی ہیں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s