عہد

عظیم خواہش! گواہ رہنا

کہ ہم نے کل فیصلے کی تکبیر پڑھ کے اپنا لہو

بہایا تھا راستوں پر

جہاں پہ ہریالیوں کا پرچم

مہ دستارا کی اوج پر لہلہا رہا ہے

گواہ رہنا کہ

کل کی ظلمت کو ہم نے تسخیر کر لیا ہے

تمام اہرام اپنے سائے پہ آگرے ہیں

ہماری جانب سحر نے پھینکی ہیں مٹھیاں بھر کے روشنی کی

بلندیوں سے برستی کرنوں نے کر دیا ہے

زمیں کا سارا بدن سنہرا

جوان لڑکوں نے سر پہ باندھے ہوئے ہیں سہرے

گلی گلی بے حساب چاہت کی خوشبوؤں سے بھری ہوئی ہے

عظیم خواہش گواہ رہنا

کہ ہم نے تکمیل کے سفر پر

روانہ ہونے سے پیشتر عہد کر لیا ہے

کہ ہم کسی مصلحت کے آگے نہیں جُھکیں گے

ہم اپنے منہ پر مفاہم کی سیاہ کیچڑ نہیں ملیں گے

گواہ رہنا کہ عزم اپنا

ہمالیہ سے بلند تر ہے

ہماری آنکھوں میں ساری مشرق کی دھوپ سمٹی ہوئی ہے

پیشانیوں پہ خاکِ وطن کا سونا چمک رہا ہے

ہمارے جذبوں کا رہ نما ہے

لہو سے لکھا ہوا نوشتہ محبتوں کا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s