طلسم بے اسم

میں کبھی اُڑتے ہوئے رنگوں

کبھی بوئے گریزاں کے تعاقب میں اکیلا

شہرو صحرا میں پھرا

تاکہ مِل جائے ہجومِ ناشناساں میں وہ صورت آشنا

جس کو میں نے جسم بے ہیّت کی صورت

حرفِ بے اظہار کی مانند سوچا تھا

مگر دیکھا نہ تھا

جس کی چاہت میں نگاہیں

رنگ و صوت و جسم و جاں کو جمع کر کے

(او ر غیر آسودہ ہو کر)

منتشر کرتی رہیں

اور میں ناقابلِ تعبیر خوابوں کے خرابے میں

خجل ہوتا رہا

میں کہ تھانا خود شناس

ششدر و حیران ہزاروں آئنوں کے درمیاں

دُور سے آتی شعاعوں کے بدلتے زاویوں کے ساتھ ساتھ

رُونما ہوتے ہوئے ہر واقعے کے پیش و پس منظر کو

نقشِ دل بناتا تھا، مٹاتا تھا کبھی

بے اُفق ۔ نادیدہ ساحل آنکھ کے

قربتوں کے اِس طرف اور دُوریوں کے اُس طرف

اور مفروضہ حدوں کے درمیاں بھی

دُوریاں ہی دُوریاں

ظاہر و باطن کی دنیاؤں میں ہر سُو

لا تعلق صورتیں

روپ، رشتے۔ رفتہ و آئندہ کی جادوگری

میں اُسے شکلیں بدلتے

شہر بے تشبیہ میں کیسے ڈھونڈتا

غالباً

ہر تماشا، واقعہ۔ حرف و نظر کے دامِ کوتاہی میں تھا

میں گرفت نیم آگاہی میں تھا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s