سنگ بے حیا

قید خانے کی دیوار پر انگلیوں کے نشان

ناخنوں کی خراشیں

سزا یافتہ مجرموں کی شب و زر سر پھوڑنے کی صدا

تیس برسوں سے رو کی ہوئی سانس

سینے میں سولی کی مانند لٹکتی ہوئی

اور آنکھوں کے جلتے ہوئے دائرے سے نکلنے کی

ممنوعہ سڑکوں پہ پھرنے کی خواہش کا

تاوان۔۔۔۔ہر سوچ کی نامرادی

(بگولے کی زنجیر کو خار و خس توڑ سکتے نہیں)

نینوا کے اندھیرے کنوئیں، دل کے پاتال میں

کوئی برسوں سے گرتی ہوئی چیخ

ہاروت و مارت کو چُھو کے لوٹی نہیں

آسماں اتنا اونچا ہے

پاؤں کی اکڑی ہوئی انگلیوں پہ کھڑے

بازؤں کو اٹھائے ہوئے، سوچتا ہوں۔۔۔۔کہ چُھولوں اسے

تیس برسوں کی روکی ہوئی سانس چلنے لگے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s