دھند میں اٹھتا ہاتھ

الف۔سبز نیلے پروں کو اٹھائے ہوئے

یہ دیودار صدیوں سے اُڑنے کو تیار ہیں

اور اُڑتے نہیں

بیدمجنوں سے شاخوں کی لڑیاں لٹکتی ہوئیں۔۔۔۔جیسے گرجائیں گی اور گرتی نہیں

اور زرخیز مٹی سے اُگتا نہیں موسموں کا ثمر

میں مسافر۔۔۔۔ سفر کی اُترتی ہوئی قوس پر ہوں رواں

شام کیگردمیں خود سے روپوش ہوتا ہوا

سامنے۔۔۔۔ انت سے لے کے بے انت تک

راستے، راستوں سے نکلتے ہوئے۔۔۔۔ رُک کے رُکتے نہیں

خواب ، منظر، حقائق۔۔۔۔ سبھی کے سبھی

ہیں خلا میں معلّق ۔۔۔۔ جمود و تحرک

”تہیں” اور ”ہے” کا تماشا بنے

ب۔ تجھسے منکر ہے اندر کو کھلتی ہوئی آنکھ جو

دیکھتی ہے مگر دیکھتی بھی نہیں

تو نہیں جانتا ہے کہ امکان کی سرحدیں

روز کی گردشوں سے پرے

تیرے قدموں کو چھونے کو تیار ہیں

تو تخال کے خودزاد سایوں میں ڈوبا ہوا

اپنا قامت کی تحلیل تک

جانتا ہے مگر جانتا بھی نہیں کس طرح

تیسرے پہر سورج کے پُرزے اُڑیں

اور ہر شے کے پاؤں سے سائے اُگیں

موج در موج لشکر بڑھیں

جن کی ٹاپیں اندھیراُڑاتے ہوئے

اپنے اندر ڈبو دیں ہمیں

بے کراں وسعتیں اور بے تہ اندھیرے کی گہرائیاں

اس سمندر میں ڈوبیں تو ابھریں نہیں

اور چاہیں تو ہم

جرأتوں کے دل افروز لمحے کی آواز پر

اپنے جسموں کے انبار سے پاٹ کر

روشنی کا ہمالہ بنا دیں اِسے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s