ایک پہر کا فاصلہ

سامنے کوہساروں پہ چڑھتی ہوئی صف بہ صف کھیتیاں

ندیوں کے کمر بند باندھے ہوئے

آسمانوں کی جانب قدم بہ قدم چڑھ رہی ہیں

یہ سِیڈار کے نیلگوں سبز پیڑوں کے جھرمٹ

اُٹھائے ہوئے اپنے پر، اُڑنے والے ہیں

تازہ ہوا قریہ قریہ کسانوں کی محنت کی خوشبوسمیٹے ہوئے بانٹتی پھر رہی ہیں

زمیں منہ پہ فصلوں کا گھونٹ گرائے ہوئے

کھردرے ہاتھ کے لمس کی آنچ سے

لذتوں میں شرابور ہے

اور سورج پہاڑوں کی مستک پہ ٹھوڑی کو ٹیکے ہوئے

تک رہا ہے مجھے

میں یہاں اپنے پاتال میں ڈھونڈتا ہوں کہ میں ہوں کہاں

اور سب ہیں کہاں

اس بکھرنے کی تحریک میں

کونسی لالچوں

کونسے فلسفوں کی کمندوں نے پھینکا مجھے

میں کہ کھوئی ہوئی نسل کا آخری فرد ہوں

آخری ذات ہوں

میں کہ تردید ہوں اور اثبات ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s