ایک مکالمہ

آ چلیں۔۔۔۔سامنے بائیں جانب کو مُڑتے ہوئے راستے پہ چلیں

کیوں، وہاں اُس طرف کیوں چلیں، اِس طرف کیوں نہ جائیں۔۔۔۔ مگر سوچتا ہوں کہ یہ اور وہ ایک ہی راہ کے دو زمانے ہیں، دو حالتیں ہیں، صدی دو صدی کے شور اور رفتار کے مظہروں کے سوا اورکچھ بھی نہیں ، اور کچھ بھی نہیں۔۔ کیوں چلیں، اُس طرف موسموں کی ہوا۔۔ چھوڑ ہم اُڑتے پرندوں کے انبوہ سے کس لئے جا ملیں اور پھر زید کے تنگ جوتے مجھے کاٹتے ہیں۔ یا اُسے یا مجھے زرد آنکھوں کی تکلیف ہے۔ آ یہیں۔۔۔۔ آ یہیں بیٹھ جائیں، یہیں گھاس پر۔۔۔۔ جانتے ہو یہ پاؤں میں روندی ہوئی گھاس، بنجر زمیں اور قدموں کی گرمی کی اولاد ہے۔

آچلیں۔۔ یہ دھوئیں اور مٹی کی باتیں ہیں، باتوں کے زینے پہ چڑھتے ہوئے تیرا دم ٹوٹ جائے گا۔۔ آ اب چلیں۔

کس طرف! کس طرف! ۔۔۔۔ میرے آقا! مجھے دائرے کے مسلسل سفر سے رہائی دِلا۔ انگلیاں، انگلیوں پر لپیٹے ہوئے میں کہاں تک گرہ بینوں سے نکلنے کی خواہش کروں اور لفظوں کی بارش میں بھیگے ہوئے، آنے والے خطوں کے مضامین بے معتبر نامہ برکی زباں سے سنوں۔۔۔۔ اور رنگوں کی آلائشیں۔۔۔۔ سب منافق ہیں۔ ہر بات سچّی بھی ہے اور جھوٹی بھی ہے۔

ڈیش اِٹ

اوہ۔ مت نوچ آنکھیں کہ یہ روشنی کی امانت ہیں، جن کے گنوانے کی پاداش میں گونج کی راہداری میں چلنا پڑے گا تجھے عُمر بھر۔۔۔۔ تُو کہ تُو زید کا دوسرا نام ہے۔ نصف چہرہ، تیرے دوسرے نصف چہرے کا بہروپ ہے۔۔۔۔ دیکھ! صدیوں کی پگڈنڈیاں، کارگاہوں سے بے رزق خلقت نکلتی ہوئی، ایک ہی سمت سے لوٹ کر ایک ہی سمت کو روز جاتی ہوئی، دُکھ کے دن روز و فردا کے ڈائل پہ چلتے ہوئے۔

یہ خدائی کو زیر و زبر کرنے والے مسائل نہیں۔۔۔۔

ڈیش اٹ۔ ڈیش اٹ

اور ڈائل پہ چلتی ہوئی سوئیاں اور سورج مسافر، مسافر تِری سانس میں اور تُو۔۔۔۔ منزلیں، منزلوں سے پرے تیرا ساحل سمندر سے پہلے بھی ہے اور آگے بھی ہے، ایک ہی راستے اور رشتے میں ہر شے پروئی ہوئی تجھ سے منکر نہیں۔۔۔۔ اپنا اقرار کر۔

اجنبی تو بہت نارمل ہے، بزرگوں کے اقوال کو سّچ سمجھتا ہے لیکن یہاں دیکھنے اور کم دیکھنے کی سزا ایک ہے۔ میرا ہونا، نہ ہونے کی تائید ہے۔ دوریاں، بے سفر دوریاں اور تو فاصلے کی مسافت گراف اور گرامر کی گردان سے ناپتا ہے۔ مگر میں نہیں، میں نہیں۔۔۔۔ ذلتیں منتشا، اے سلیبا، خود آگاہیاں منتشا۔۔۔۔ دہشتیں دشت دم دم گراں۔۔۔۔ پھوڑ دے، ہاں اسے پھوڑ دے۔

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s