ایوری باڈی نو باڈی

لٹکتی سانس کے پردے پہ برسوں کے پرانے، ملگجے جالے کشیدہ ہیں

ہوا کی آب گوں ململ میں ننگا جسم لپٹا ہے

پھٹی آنکھوں میں ناخن اُگ رہے ہیں، آؤ۔۔۔۔جالی دار دیواروں پہ

کوئی پوسٹر چسپاں کرو، اعلان کر دو۔۔۔۔ آج اُس کے استخوانی ہاتھ

اُس کی موت کی تاریخ لکھیں گے

کسی اخبار کے چالیسویں کالم میں اُس کا نام کل مذکور ہو گا

بے درخت و سنگ میدانوں میں اُس کی

بے صدا آواز اپنا عکس ڈھونڈے گی

تو کوئی سر کٹا بے نام ہیرو خاک سے اُٹھ کر

دھوئیں کے دائرے سے ایک کالا لفظ پھونکے گا

اُسے پتھر بنا دے گا

اُسے کہہ دو کہ ہم بھی جالیوں والی عمارت کے مکیں ہیں

جس کے سوراخوں پہ

سرجن نے مکینک کی جراحت سے نئی آنکھیں لگائی ہیں

کہ شاید اندرونی حادثوں کو جذب کر لیں اور سارے حرف

اپنے حاشیوں کی قید سے آزاد ہو جائیں

اُسے کہہ دو کہ ہم، ہم بھی نہیں ہیں، شام کے انبوہ سینماؤں سے

جب باہر نکلتے ہیں تو ہم اپنی شباہت

ہر کس و ناکس کے چہرے میں نمایاں دیکھتے ہیں،

رات کے بھاری کواڑوں پر

ہمارے ہاتھ شب بھر دوسروں کی دستکیں دیتے ہیں

جیسے اجنبی گھر ہو

جسے برسوں سے ہم اپنا سمجھتے ہیں

اُسے کہہ دو کہ وہ خود بھی نہیں ہے، زرد معیاروں کی دنیا میں

ہزاروں دھوپ چھاؤں کے بنے پیکر

خلا میں اپنا ویثرن ڈھونڈتے رہتے ہیں، بچوں کی طرح

بھیگی ہتھیلی سے

کسی دیوار پر اپنے ہی سائے کو مٹاتے ہیں

مگر کچھ بھی نہیں ہوتا

اُسے کہہ دو کہ ہم تو سرسری کردار ہیں

جو روز کی جنگوں میں مرتے ہیں

مگر کچھ بھی نہیں ہوتا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s