آدم زاد کی دُعا

زمیں کی تنگیوں کو اپنی بخشش سے کشادہ کر

کہ سجدہ کر سکوں

یہ کیا کہ میرے حوصلوں میں رفعتیں ہیں

اور گرتا جا رہا ہوں اپنی فطرت کے نشیبوں میں

تِری کوتاہیوں میری انا کی سرحدیں ہیں

کیا یہ دیواریں

سدا اُٹھتی رہیں گی میرے سینے پر؟

بتا یہ رنگتیں، یہ دُوریاں پیدا ہوئی ہیں

کس کی دانش سے

بتا میرے لہو میں ڈوبتے جاتے ہیں کیوں

انجیر و زیتون کے گیا، ہستاں

مُجھے بھائی میرے نیلام کرنے جا رہے ہیں

تک رہا تو مجھے معذور آنکھوں کی سفیدی سے

یہ کیسا شہر ہے

جس کی ثقافت کی مچانوں سے

مُجھے مارا گیا ہے اور میں شو کیس میں

لٹکا ہوا ہوں

میرا منظر دیکھنے والے

لکھی سطروں کی کالی ڈوریوں پر ناچتے آتے ہیں

خود اپنے تماشائی

بتا بڑھتی ہوئی آبادیوں میں

چاندنی کیوں گھٹ گئی ہے

لبریم، پلکیں جھپکتے قمقمے، آنکھوں کا بھینگا پن

نئے چڑھتے دنوں کی سرخیاں ہیں کیا؟

خدا وند!

مجھے طائر، شجر، پربت بنا دے

یا مجھے ڈھا دے

کہ دوبارہ جنم لوں اپنی بے مشروط آزادی کی خواہش سے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s