وُہ اور مَیں

یہ طویل نظمیں شاید اُس طویل نظم کے بیچ بیچ کے حصہ ہیں جو ہمارے دور میں زیرتخلیق ہے۔ جس کے ”ہونے” کا جغرافیہ کسی مخصوص خطہ ارض سے منسوب نہیں بلکہ اس دور کے تہذیب اور ہمارے نفسیاتی علاقوں کی خط کشی کرتا ہے۔ یہ طویل نظمیں کچھ ایسے ہیں جو آج کے خارج و داخل کی منظرکشی اور صدابندی کرتے ہوئے کسی رزمیے کے بجائے المیے کی تالیف کرتی نظر آتی ہیں۔ یوں بھی آج کی نظم میں کسی اخیل، تبریس، سہراب یا ابلیس کیکردارکشی شاید ممکن نہیں رہی۔ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہم پر اپنی تاریخ کا جو انکشاف اس صدی میں ہوا ہے، اُس نے ہمارے بہت سے رومانی روّیوں کو مسمار کر دیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تاریخ اور فلسفہ ہماری اجتماعی میراث ہے۔ ہم نے صدیوں کے عملم یں جیسی بھی انسانی تہذیب کی صورت گری کی ہے۔ اس نے ہمیں یہ شعور ضرور بخشا ہے کہ انسان کو خطوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ زمین، فطرت اور زندگی کے مرتب کردہ منظر نامے میں انسان ایک مرکزے کی حیثیت رکتھا ہے۔ کیا معلوم کہ انسان کی اس حیثیت کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی کارفرما ہو۔ لیکن تاحال تو یہی منکشف ہوا ہے کہ اتنی وسیع کائنات میں وہ بے کنارہ وست کی لہروں پر اکیلی ناؤ کی طرح ڈولتے ہوئے بہے چلا جا رہا ہے اور بظاہر اس بے معنی سفر میں وہ بالکل تنہا خود اپنے آپ سے متصادم بھی ہے۔ اُسے اس صورتِ حال کا شعور بھی ملتا جا رہا ہے۔ اس تصادم کے امکانات کیا ہیں؟ وہ اپنے آپ سے آگے بھی نکل سکتا ہے اور خود کو فنا بھی کر سکتا ہے۔ اگ وہ خود کو فنا کر دیتا ہے تو وہ ایک ناقص الوجود مخلوق کی حیثیت سے عناصر کے تجربے کا حصہ بن جائے گا او شاید زندگی آگے چل کر اُس کے مقابلے میں زیادہ بسیط اور مکمل تر مخلوق پیدا کرے اور یہ سلسلہ جاری رہے۔ لیکن لگتا یہی ہے کہ انسان میں امکانات کی اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ سے آگے نکل جائے۔ مثلاً یہی چند صدیاں پہلے بستیوں کو تاراج کرنے والوں کو ہیرو قرار دیا جاتا تھا۔ ایسے ہیرو اب بھی پیدا ہوتے ہیں لیکن انہیں مینیک یا وِلین کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ اِسی طرح اِستبداد اور استحصال جو آج بھی بہت عام ہے، مظلوموں کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے آزادی پسند قوتیں ایک ایسے زمانے کا خواب دیکھ رہی ہیں جب جبر و استحصالکا نام نہ رہے گا۔ اب وہ نشہ آور فلسفوں اور ثقافتی افیونوں مثلاً آئیڈیلائزڈ محبت جیسی منشیات کے بارے میں جان چکی ہیں کہ اُن کے بیج سے عالمی نفرت کی فصل اُگتی رہی۔ اُن کے نام پر مظلوموں کو لوریاں دی جاتی رہیں اور انہیں خوابوں کی بافندگی کا پیشہ سونپ دیا گیا۔ اب وہ نیند سے بیداری کے عالم میں ہیں۔ مظلوم اپنی نیم وا آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ زور آور کے معبد میں مورتیں ا بنانے، ان کی غیبی قوت کی تشہیر کرنے پر کون مامور ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ جبر کے بورھے شبدیز کے پہلو سے لٹکے ہوئے ہیں اور ان کی گردن سے قطرہ قطرہ سرخ زندگیح ٹپک رہی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا جا رہا ہے کہ زورآور کی سیاست کا قلم ان کیلوح حیات پر جو لکھتا ہے وہی ان کی تقدیر بن جاتا ہے۔ یہ حقیقتیں آشکار تو ہو رہی ہیں لین حقیقت خود ایک معمہ ہے۔ رومان کا عمل آسان سا ہے، وہ شیشے کو سانس سے دھندلا کر چیزوں اور مظاہر کو دیکھ لیتا ہے۔ حقیقت بظاہر پردے اٹھاتی ہے لیکن اس عمل میں تہ اندر تہ حقیقتیں سراب سی نظر آنے لگتی ہیں۔ بہرطور یہ ادراک تو میسر آتا ہے کہ کوئی اخذ شدہ نتیجہ آحری نتیجہ نہیں، کوئی فیصلہ آخری فیصلہ نہیں اور کوئی نظام فکر آحری نظام فکر نہیں۔ محدود لامحدود نہیں ہوتا۔ ہم مشاہدے، فکر اور تور سے معنی کا جو تانا بانا بُنتے رہے وہ زندگی کی جامعیت پر تنگ رہا۔ انسان کو بُرے اور بھلے میں باٹنا معاشرے اور فرد کو متوازن رکھنے کے لئے مفید عمل تو ہو سکتا ہے لیکن اسیا کرنے سے ہم نے فرد کو اُس کو کلیت سے محروم کر دیا۔ اس کے شعور اور لاشور میں فاصلے بڑھا دئیے۔ نصیحتوں ، دھمکیوں اور سزاؤں کی بٹی ہوئی رسی کی جنبشی پر اُسے چلنا اور رکنا سکھایا۔ وہ اپنی فطرت کی اکائی سے الگ ہو کر ایک یا دو دُنیاؤں کی فکر میں اتنا سنجادہ ہو گیا کہ اُس نے اشیاء کی منڈی اور کنشت و کلیسا کے ماورائی ڈھانچے کے درمیان آمدورفت میں ہی صدیاں گزار دیں۔ کیوں نہ ہم ایک سادہ سی، آسان سی زندگی گزارنے پر سمجھوتہ کر لیں ادنیٰ و اعلیٰ اور نیک و بد کی مصنوعات بنانے سے دست کش ہو جائیں۔ ایسے شجر اکھاڑ پھینکیں جن پر استحصال اور جبر کا پھل لگتا ہے۔ فرد کی کلیت کو تسلیم کیا جائے اور فرد انسانی تاریخ میں کھائی ہوئی شکستوں اور فہم خالص کے شعور میں اپنی حدوں کے المیے کا اعتراف کرے۔ ایک درد مشترک کا اُسے وہ اخلاقی بصیرت بخشے کہ وہ اپنی اصل کو پہچان کر انبوہ کے رَواں دھارے میں قطرے کی طرح مدغم ہو جائے۔ ایسے قطروں سے بنا ہوا دھارا یقیناً اپنے آپ سے آگے نکل جائے گا۔ کیا ضروری ہے کہ صدیوں سے کھیلا جانے والا آگ اور خون کا ناٹک جاری رہے۔ کیا ضروری ہے کہ افلاس اور غلامی کی وباء پھیلانے کے لئے ہوس کے گٹروں میں زرموش کی پرورش کی جائے۔ جنسِ قوت تخلیں ہے، اسی کے شبستانوں میں بقا کا خواب پلتا ہے۔ اسے سمٹ سمٹ کر چلنے کا پابند کیوں بنایا جائے۔ سخاوت اور احسان ہی وہ انصاف ہے جو زندگی ہم سے مانگتی ہے۔ کیا یہ کارِ ناممکن ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری حدِ اِمکان میں ہے۔

مَیں اپنے گریبان میں کیا جھانکوں۔ یہاں تو ابھی رُفو کا بہت سا کام پڑا ہے یہاں تو ابھی شخصی حکومتیں چل رہی ہیں۔ ابلاغ عامہ کا سرافیل جاگتے ہوؤں کو سلانے اور آذر جمود باطن کے بُتوں کو پختہ کرنے پر مامور ہے۔ یہاں تو ابھی مردنے بیچاریوں کو چادر اور چاردیواری کا تحفظ دینے کی ذمہ داری جبراً اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ اشتہار اور اشیاء کی چکاچوند میں آنکھیں کیا دیکھیں، اپنے لئے برے دھندے اور اولادوں کے لئے بڑی جائیدادیں یہی ہماری ساری تگ و دو کا مرکز و محور ہے۔ ایک طبقہ ہے جو شاہ کو کج کلاہی کے تیور سکھاتا ہے، گدا کو خانقاہیں چلانے کی سہولتیں بخشتا ہے اور شاعر سے حُب الوطنی کے ثبوت میں ترانے لکھواتا ہے۔ اس کی حکمت و حکومت موقع پرستی اور منافقت کی پشت پناہی کرتی ہے۔ ایک پورا کلچر ہے جو اس کے پیچھے پیچھے کلیشے اور جذباتیت کی بیساکھیوں پر چل رہا ہے۔ اس مکتب شہ گری اور درسگاہ اناشکنی کے ‘ان پڑھ’ دُک۔ اُٹھانے اور رُسوا ہونے کے پرانے عادی ہیں اور صدیوں کی تنبیہ و سزا کے اوجود ان کی یہ عادت نہیں گئی۔ اور یہی ہیں وہ جن پر میری ساری امیدوں کا انحصار ہے۔ یہی ہیں وہ جو اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ میں خود اِسی قبیلے کا فرد ہوں۔

اور زندگی کی اِس موجود منظر گاہ میں اپنے رُوبرُو کھڑا میں سوچ رہا ہوں کہ وقت، عناصر اور تاریخ کا تیارہ شدہ پیکر اپنی اصل میں کیا ہے؟ میں اُس انبوہ کی پہلی اکائی ہوں جو صدیوں سے بے تغیر چل رہا ہے۔ اس انبوہ کی ایک خردہ شکل میرے اندر بھی موجود ہے۔ مَیں اُس فطرت کا قدیم عکس ہوں جو میرے باہر اور اندر محیط ہے۔ میں اُس پرانی مٹی کی روئیدگی کا ثمر ہوں جسے دھوپوں نے پکایا ہے۔ میں اس تاریخ کا مُرقع بھی ہوں جو خیال کو جبلّت پر حاوی کرتی رہی ہے اور یوں ایک تجربے کا حاصل بھی ہوں۔ میرے اندر شکستوں کے دراز سائے بھی ہیں اور امکان کی دُور نما جھلمل بھی۔ دیکھوں تو میں خود بھی نہیں۔ اپنے آپ سے ملا ہوں، اپنے آپ سے بچھڑا ہوا۔ اپنے آپ میں بہت مضطرب، بہت مطمئن۔ ندی کی روانی بھی اور کنارے کا ٹھہراؤ بھی۔ زندہ و خوبصورت کی بے پناہ چاہت بھی اور خود سے اجنبیت اور بیزاری بھی۔ میں اپنی گھمبیر تنہائی میں ‘زید’ سے ملتا ہوں۔ وہ میرا آسیب یا ہمزاد یا ضمیر نہیں۔ شاید وہ میری اصل ہے۔ ناوقت اور نالفظ میں چھپی ہوئی اصل۔ جس سے گفتگو تو کرتا ہوں لیکن ایک طرفہ۔ وہ میرے سامنے ہوتا ہے لیکن میری پہچان سے باہر رہتا ہے۔ پہچانوں بھی کیسے کہ کئی زمانے نوکِ سوزن سے آنکھ پر کھینچی ہوئی خراشیں چھوڑ گئے ہیں۔ وہ اور میں زندگی کے دو اہم کردار ہیں، ایک دوسرے کی دسترس سے ذرا ہٹے ہوئے۔ اُس کے بہت سے اندھیرے میری حسّیات کے ٹٹولنے کی پہنچے سے باہر ہیں۔ اُس کی بہت سی آوازیں میری سماعت کے منطقتوں سے نیچے یا اوپر رہتی ہیں۔ وہ میرا اور میں اس کا محرم نہیں بن سکتا کہ وہ میری پوری سچائی اور میں اپنی آدجھی سچائی۔ میں اس سے یک طرفہ مکالمہ کر رہا ہوں۔ ذرا سُنیے ہ وہ آپ میں بھی موجود ہے اور یہ گفتگو آپ کی گفتگو بھی ہے۔ اور کیوں نہیں؟ ہم سب اس مہینے، اس سال اوراس صَدی میں اکٹھے زندگی کر رہے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ میں اگلے جنم میں بھی آؤں گا اور زید سے یہ مکالمہ جاری رہے گا۔

آفتاب اقبال شمیم

اپریل ، ٨٩

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s