میں ابد ہوں

آسماں ڈوب گیا تنگ خلیجوں میں کہیں

میز پہ رکھے ہوئے ہاتھوں پر

سانس دھندلائی ہوئی گرتی ہے

ادھ کھلی کھڑی سے

رات انڈیل رہی ہے خنکی

سارے دروازو ں پر

خود کو کم جاننے کے پہرے ہیں

اجنبیت کاپرانا احساس

ڈولتے کوہ کی مانند جھکا ہے سر پر

جو ابھی سونڈ میں لپٹا کے

اچھالے گا اُسے

اور پلٹا کے پھٹی آنکھوں کو

اپنی پیشانی میں وہ جھانکے گا

اور دیکھے گا تھَئیٹر کا وہ منظر جس میں

بیل ہسپانوی لڑکے کو ارینا میں کچل دیتا ہے

مسکراتا ہوا لڑکا جس کی

موت محبوبہ ہے

کیا یہ تہوار ہے خوشبوؤں کا؟

سرمئی ریت میں ڈوبے ہوئے شفاف لہو کے

سورج

آسمانوں کے مہکتے ہوئے پھیلاؤ میں

رات کے پیڑ پہ اُگ آئے ہیں

اور اب

دھوپ کی پتیاں رستوں میں لٹائی ہے ہوا

زرد مشرق میں غلامی کی سڑاند

صندلیں نسل کی یورش میں بہی جاتی ہے

کیا یہ تہوار ہے خوشبوؤں کا؟

قہر کے کوہ سے بہہ نکلی ہے

آہستہ سے

سرخ ملبوس میں دلہن ہے رواں

اور فرہاد نئے موسم کا

خودکشی کر کے اناالحق کی اذاں دیتا ہے

ویت نامی بھکشو

کھول کے اپنی رگیں

خام قوت کے مقابل میں گواہی اپنی

دے رہا ہے دیکھو!

مشرق و مغرب میں

چی گویرا کی صدا پھیلتی ہے، پھیلتی ہے

میں نے پہچان سے اثبات کا

ناوقت سفر

طے کیا اور اجالے مرے قدموں میں بچھے

میں کہ بے انت اندھیرے کی

کسی شاخ سے لٹکا ہوا اک پتا تھا

میری آنکھوں سے کئی صدیوں کے

جہل کی چھال گری۔۔ اور زمانوں کے زمانے پلٹے

نوجوانوں کی جواں تر آواز

خون میں گونجتی ہے، گونجتی ہے

سوچ کا بحر ہے میلوں گہرا

اور نروان خمومشی کا پرندہ ہے بلندی سے

نگاہیں جس کی

معتدل موسموں کو برف پہ چھڑکاتی ہیں

بس ابھی پھینکیں گی

آسمانوں سے ابابیلیں کئی سوچتے جذبوں کی

حرارت جس سے

جھوٹ کی کند تہوں کے چھلکے

سارے جسموں سے اتر جائیں گے

اور گوتم کوئی

ساتھ لائے گا خود آگاہیوں کا آئینہ

سب کی پیشانیاں پاکیزہ زمانوں کی بشارت سے

دمک اٹھیں گی

(٢)

تُو نے دیکھا ہے کبھی

تند دریاؤں کو پستی سے بلندی کی طرف بہتے ہوئے

تُو نے خوشیوں کے کھلے موسم میں

سرمئی دھوپ کو آنکھوں سے ٹٹولا ہے کبھی؟

جب اُجالے کا ابوالہول ترے سینے پر

ناچنے لگتا ہے

تو نے محسوس کیا ہو شاید

تیرے آئینے میں الٹائی ہوئی شکلیں ہیں

اپنی تردید سے خائف ہو کر

وہم کے تنکوں سے

تو بناتا ہے عقیدوں کی فصیلیں کتنی

انکشافات کے لشکارے کو

تُو سیاہی میں ڈبوئے ہوئے الفاظ کے

چھینٹوں سے بجھا دیتا ہے

گول ابھری ہوئی آنکھوں سے تجھے تاڑتی

رہتی ہیں کئی چھپکلیاں

خوف و حیرت کے سوالات ہیں منہ کھولے ہوئے

اور تو جانتا ہے

روشنی ڈھونڈنے والوں کو مکوڑوں کی طرح

رات کی ڈائنیں کھا جاتی ہیں

اور مکروہ سوالات خلاؤں کی طرح

گُھورتے رہتے ہیں

روزمرہ کے بنائے ہوئے تسلیم شدہ رستوں پر

دھول ہی دھول ہے سمجھوتوں کی

یہ نفی کے پردے

دیکھنے والے کی پوشش بھی ہیں عُریانی بھی

روشنی کے قد سے

گھر کے یہ سائے بہت لمبے ہیں

فرش پر بکھرے ہوئے جُوتوں کے

منہ کھلے ہیں جن سے

رات بھر اڑتی ہے بیمار سفر کی بدبو

کیسے ہرشام کوہارا ہوا خود سر لڑکا

اپنی چوکور پنہ گاہ میں لوٹ آتا ہے

اور کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک

جیسے دانتوں سے کترنے کی مسلسل آواز

کوئی شے گھٹتی ہوئی

رونما ہوتے ہوئے واقعے، وقفوں کے خلا

بلبلے اور زمانے یکساں

دیکھتے دیکھتے خاموش دھماکوں میں بکھر جاتے ہیں

وقت بے سمت مکاں ہے جس کا

کوئی دروازہ نہ دیواریں ہیں

ایک احساس بیک وقت

ہزاروں جانب

پھیلتا اور سکڑتا ہے حوالوں سے ترے

تو خود اپنا کل ہے

اپنے پاؤں کے تلے روندا ہوا

تیرا احساس ہے ایذا تیری

تو تروتازہ چراگاہوں سے

دن کے ڈھلتے ہوئے سورج کی رفاقت میں

بہت دُور نکل آیا ہے

منزلیں۔۔ عارضی ترکیبیں بغاوت کو

فرو کرنے کی

نظرئیے موم کے بت ہیں جن کو

مصلحت اور ہوس کی گرمی

مسخ کر دیتی ہے

تُو نے دیکھا ہو گا

سادگی اور خباثت کو گلے ملتے ہوئے

فلسفے اور اصول

بات سےبات بنانے کے ہنر

اور تقریر کے کوزہ گر نے

چاک پر، ایک ہی مضمون کو ڈھالا ہے

کئی شکلوں میں

توڑ اِن خوابوں کو

واہمے دن کی چٹانوں پہ گرا

المیے خبروں کے

آنکھ میں چبھتے ہوئے گرد کے تنکوں کی طرح

منکشف ہوتے ہوئے، چھپتے ہوئے

منظروں اور مزاروں کی نمائش گاہیں

جن میں چندھیائی ہوئی، سکڑی ہوئی

پتلیاں کھلتے کھلتے

اپنے پھیلاؤ میں صدیوں کے اندھیرے کو ڈبو لیتی ہیں

اور پھٹ جاتی ہیں

ایک انبار ہے بولے ہوئے، لکھے ہوئے حرفوں کا جسے

لیمپ کی روشنی میں

نوک دار انگلیاں سلجھاتی ہیں

اور پھر رسیوں کے ٹکڑوں سے

بنتی رہی ہیں بچھونا جس میں

کوئی سوراخ نہ ہو

دھڑ تڑپتا ہوا نایافتہ آسائشوں کی خواہش میں

سر کو ڈستے ہیں سوالات کے کالے کژدُم

اپنی حد بندیوں کی سولیاں لٹکی ہوئیں۔۔ چاروں جانب سب عمل بے مقصد

سرحدیں۔۔ ڈوریاں الجھی ہوئیں ہر پاؤں میں

پتلیاں ناچتی ہیں، ناچتی ہیں

(٣)

سرد کافور کی بُو، صبح کی پہلی کرنیں

اور فلموں کے پرانے گانے

ایک سا ذائقہ ہے

ناشتے اور نئے دن کے خبرنامے کا

کھُردرے چہرے پہ ریزر کے رگڑنے کی صدا

تیز چائے میں گھلائے ہوئے سگرٹ کا دھواں

منہ میں ٹپکاتا ہے

سالہا سال کی عادات کا مٹیالا مزا

اورالماری سے آتی ہے کتابوں کی پرانی خوشبو

وہ کتابیں جن میں

ہم رکھا کرتے تھے

خوشنما مور کے پر اور سنہری کتریں

یاد ہے؟ آج سے برسوں پہلے

ہم اسی وقت اسی راستے پر

ہاتھ میں تختیاں لٹکائے ہوئے چلتے تھے

آسماں اور زمیں اپنے تھے

معرکے تازہ لہو کے جن میں

چاہتے تھے کہ نئی لرزشیں محسوس کریں

نِت نئے تجربوں سے خون اُبالیں اپنا

کوئی دعویٰ ہمیں تسخیر کرے

یاد ہے؟ سینکڑوں پگڈنڈیاں کھُلتی ہوئیں

پاؤں کے تلے

کھلکھلاتی تھی ہمیں دیکھ کے، سبزے میں بھگوئے ہوئے

کھیتوں کی ہوا

سخت کھینچے ہوئے تاروں کی رگیں بجتی تھیں

اور گہنائے ہوئے چاند ، اٹھائے ہوئے صدمات کی نیلاہٹیں، ناکامیاں

رومان، چکاچوند دلیلوں کی شکستیں، نئی دریافتیں ، اعصاب سے

گرتا ہوا ہیجان، نئے روپ، بدلتی ہوئی

پہچان میں سرجن کی جراحت کا عمل

سارے افعال و مسائل کی اذیت میں

عجب لذت تھی

کون سی شام تھی جب

میں نے جلتے ہوئے سگرٹ سے ڈسی تھیں آنکھیں

بے دلی گہری، بہت گہری تھی

جابجا درزوں سے

روشنی چھنتی تھی

جیسےبے جسم اندھیرے کے مساموں سے لہو رستا ہو

جاگتے رہنے کی حاجت تھی نہ سو جانے کی

سرد سیسے کی طرح سُست وجود

کوئی نسیاں کے سمندر میں گرا دے مجھ کو

میں نے یوں چاہا تھا پر دل سے کہاں چاہا تھا

اور پھر میں نے کہا زید سے سرگوشی میں

آچلیں چائے پئیں

نیم رس روشنیاں ہوٹل کی

منتظر ہیں اپنی

دیکھ! وہ لڑکیاں خوشبو کے بگولے کی طرح

گرزی ہیں

عکس پھلدار درختوں کے رواں سایوں کے

روح میں تیرتے ہیں

گد گداتی ہے طبیعت کو ستمبر کی ہوا

آ کہ ان رُکتے ہوئے،چلتے ہوئے جھونکو ں کو

اپنے ہر انگ سےمحسوس کریں اور حسیں

دنیا کے

منظروں اور رُتوں کا امرت

چُسکیاں لے کے پئیں

دوستو! دُوریاں طبعی ہیں، مری مجلس میں

تم سدا رہتے ہو

واہ کے مال، صدر کی سڑکیں

اور جہلم کا ابد کا دریا

مرے ہونے کے حوالے ہیں، مرے ماخذ ہیں

جو مرے مسخ شدہ چہرے کی

آخری سرخی ہیں

جبر کے سلسلے، سسلی کے پہاڑ

پیٹ میں بھوک کے لاوے کا اُبال

گھر پہ نیپام بموں کی بارش

اور گورے وحشی

سینکڑوں برسوں سے

ان گنت راستوں سے شہر پہ حملہ آور

اجنبی جبر کے خفیہ رستے

موت پھنکارتی پھرتی ہے گلی کوچوں میں

زرد قوت کا بھیانک اژدر

جس کا اُگلا ہوا پیلا لاوا

شہرزادوں کو بہائے لئے جاتا ہے نشیبوں کی طرف

جس طرح دھوپ کو ڈستے ڈستے

پھیلتا سایہ فنا کر ڈالے

جیسے پندرہ راتیں

چاند کے جسم کو کھا جاتی ہیں

زرد قوت کا بھیانک اژدر

رینگتا رہتا ہے بل کھائی ہوئی سڑکوں پر

منڈیوں، ہوٹلوں، بنکوں کا خدا

کتنی پُرہول ہے صورت اس کی

میں نے آرے کی مشینوں میں پھنسی بوٹیاں

دیکھی ہیں کٹے جسمو ں کی

میں نے دیکھا ہے لہو تھوکتے مزدوروں کو

زرد قوت کا خدا

روندتا جاتا ہے

جس طرح پاؤں رگڑنے سے بجھا دے کوئی

فرش پر کوئلے کی تحریریں

زید! تو کہتا ہے میں زندہ ہوں

میرے ہونے کی ضرورت کیا ہے

اور پھر کون سے مقصد کے لئے

خود کو موسم کی ہواؤں کے حوالے کر دوں

میں کہ مظلوم ہوں، ظالم کے گلے کیسے لگوں

میں چلا جاؤں۔۔ کہاں جاؤں؟

کہ جینا مری معذوری ہے

فیصلہ۔۔ میری حقیقت ہے جسے

میں نے گم کر دیا ابہام کے چورستے پر

خودکشی اور بغاوت دونوں

میرے ہونے کی دلیلیں ہیں جنہیں دے نہ سکوں

دیکھ! وہ دیکھ بہادر لڑکے

خون میں ڈوب کے ابھرے ہیں فلک زاد اجالے کی طرح

ویت نامی لڑکے

اور میں اُن کے لئے جیتا ہوں

اور پھر سوچتا ہوں

روز و شب، وقت کی خوش فہمیوں کے جگنو ہیں

ان کے پیچھے پیچھے

کوئی بھاگے کب تک

اور آوازوں کے

کتنے انبوہ تعاقب میں مرے

چلے رہتے ہیں، مجھے کہتے ہیں

میں فنا ہو جاؤں

ورنہ ایندھن کے بڑے ڈھیر میں سڑتے سڑتے

راکھ بن جاؤں

ہاں اسی مٹی پر

گر کے شفاف پیالے کی طرح ٹوٹ چکی ہیں آنکھیں

اور ان بکھری ہوئی کرچیوں میں عکس پڑے ہیں کتنے

نرغہ در نرغہ سوالات کھڑے ہیں کتنے

پوچھتا ہوں کہ مرا نام ہے کیا

میں کہ خود میں بھی نہیں

بیشتر ٹیپ شدہ تقریریں

پیش رو ہیں میری

میرے افعال نئے فیشنوں کی نقلیں ہیں

میں اُسے ڈھونڈوں کہاں

میں کہ خود میں بھی نہیں

ہاں مگر میرے لئے

غیرمحسوس ارادوں کی کئی منزلیں ہیں

جو مجھے ساتھ لئے پھرتے ہیں

ڈوبتی گرمیوں کی شامیں گھنی جھاڑیوں میں

بیٹھی ہوئیں

سانولی دلہنیں آنکھوں کے اشارے سے

بلاتی ہیں مجھے

اور میں روز ہی جاتا ہوں

جہاں

منتظر ہوتا ہے

آسماں۔۔ میرے لڑکپن کا رفیق

اور ہم بانہوں میں بانہیں ڈالے

گھر سے بھاگے ہوئے لڑکوں کی طرح

شہر سے دُور نکل جاتے ہیں

دُور۔۔ خآموشیوں کے معبد میں

ہم اشاروں کے اسالیب میں سرگوشیاں کرتے کرتے

آنسوؤں اور ستاروں کو ملا دیتے ہیں

پھیلتی پھیلتی بیہوشی میں

روشنی گھلتی ہے

دیکھتے دیکھتے شکلوں کے معکب

آنکھ سے ٹوٹ کے گر جاتے ہیں

پھر ہمیں راہ میں بھیگے ہوئے سٹرس کی گریزاں خوشبو

اور سرزرد سریں کے سائے

ساتھ لے اڑتے ہیں

سنسناتا ہے، مرے جسم پہ کانٹے سے ابھر آتے ہیں

اور پھر آنکھوں سے

آبشاروں کی طرح گرتے ہیں

خواب آئندہ کے

کون سی لڑکیاں تھیں؟

جن کو چاہا تھا، بہت چاہا تھا

وہ کسک۔۔ حُزنیہ گیتوں کی کسک آج بھی ہے

آج بھی ہے

جو مرے جسم کو سلگائے ہوئے رکھتی ہے

اور میں زندہ ہوں

دیکھ! وہ مشرق و مغرب کے جلوس

مشعلیں تھامے ہوئے، نعرے اُڑاتے ہوئے

آ پہنچے ہیں

میرے ہونے کی گواہی دینے

خون میں ڈوب چکا ہوں تو کیا؟

میں اندھیرے کے درندے سے لڑا ہوں برسوں

اور اب شہر بہ شہر

گھنٹیاں بجتی ہیں

آسمانوں سے اذانوں کی صدا آتی ہے

اور میں زندہ ہوں

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s