شجرستانِ ہجر کا مُسافر

جب سہ ہر کی ڈھلوانوں سے روشنیاں بہہ جاتی تھیں

جبانگشت ستارے کی

تھرانے لگتی تھی شام کے بربط پر

اور معطر سی گھمبیر اُداسی کے ویرانے میں

شاخِ شجر سے اُڑتی تھیں

لرزاں لرزاں پیلی تایں پتوھں کی

اُس دم جانے کون صدا دیتگا تھا۔۔ آؤ

بجھتے رنگوں کے یہ تحفے

آؤ! اپنے کل کے سپنوں کی قیمت میں

لیتے جاؤ

اور آواز کے راتوں لمبے رستے پر

دو رویہ خاموشی میں

ہجر کے شجرستاں کی جانب ہم دونوں چل پڑتے تھے

یاد ہے؟ تو کہتا تھا اپنی خوشبو کی سرگوشی میں

ہجرمسافت جان سے جان کے ملنے کی

کسی نے کب طے کی ہے پیارے

ہجر فنا کا رستہ ہے

شوق تحّیر سے گزرے تو وقت کی سرحد سے آگے نا وقت ملے

اور تحیر صدیوں کے پھیلاؤ میں

جانے کون سی نادیدہ منزل کی سمت اشارا ہے

اس سے پہلے۔۔ روز سفارت لفظوں کی

بے آواز چلی آتی ہے وعدے کی اسناد لئے

خالی آنکھ کے ایواں میں

یعنی ایک کبھی نہ آنے والے کل کے آنے تک

بس اک خواب کے درشن کرنا، کرتے رہنا

جیتے رہنا، مرتے رہنا

تیشے سے

کوہ مقدر سر کر کے

آخر میں اپنے ہی خون کی ندی پر

اپنی پیاس بجھانا ہے

ہجر زدہ صحرا زادے

نااُمید نہیں ہیں جان لٹا کر بھی

اب تو جاتے ہیں لیکن پھر آئیں گے

(جینا خون بہا ہے شاید مرنے کا)

جب سانوں کے امبر پر

ٹوٹ رہے ہوتے ہیں تارے پیلی رُت کے آنگن میں

دل پر دستک ہوتی ہے

اور دریچے کی چلمن سے ساحر آنکھیں

کیسے شوح اشاروں میں

پھولوں کے آدرش کا مژدہ دیتی ہیں

دل کا سجر

شنا درجدبے اور تصّور ان ہونی سی باتوں کا۔۔آس کے در اک لمے پر وا ہوتے ہیں

لہروں کی خویصیں کندھوں پر تھال اٹھائے آتی ہیں

اور الٹتی جاتی ہیں

ریزہ ریزہ روشنی کے گوہر ریت کی جوھلی میں

دیکھا تھانا! ہم نے ہجر کے شجرستاں میں

وہ برگد کے سائے میں

صبح و شام کے خاسکتر سے کرنیں چنتا رہتا تھا

دھیان سے اڑتی خوشبو کے مرغولوں سے

سپنے بنتا رہتاتھا

جانے اُس کے نور کا کس پہ کشف ہوا

وہ شہزادہ عمروں کے بن باس میں اب بھی

تنہا پھرتا رہتا ہے

خبروں کے انبار میں اک نادیدہ حرف محبت کا

ڈھونڈیں پر کیسے ڈھوندیں

دکھ کے معرکہ زاروں میں

ہونے والی جنگوں کے طرے ہونے کا امکان نہیں

روز مچھیرا معلوم تعاقب میں

رنگ و بُو کا جال اٹھائے آتا ہے اور خلیجِ شام سےآگے

بے تکمیل سفر کے لمبے سایوں میں کھو جاتا ہے

لیکن آتسلیم کریں یہ سوچیں کم معنی ہیں

لفظ ذرا سے گونگے بھی ہیں بہرے بھی

ہوش مساحت گر ٹھہری اندازے کی، اندیشے کی

ہم کیاجانیں کون تماشا گرے ہے ان دنیاؤں کا

جن کے سناٹے میں وقت کا ٹپکاؤ

ہستی کے گلزار کھلاتا رہتا ہے

ہم اس ہونے، نہ ہونے کے عالم گیر تماسشے میں

ناظر بھی ہیں، منظر بھی تمثیلوں کے

ہم کیا جانیں کیا ہیں!

۔۔۔۔ یاد نہیں کیا؟

کیسے جشن کی کیفیت تھی دن کے چڑھتے منظر میں

آئینے در آئینہ

عکسوں کی گہماگہمی سی رہتی تھی

تازہ زخموں کی مہکاریں

ہم دنوں کو

آوارہ رکھتی تھیں دل کے قریے میں

اوّل اوّل

جب میں مونج کی چپّل پہنے

اور بسنتی خواب کی چھتری سر پر تانے

برووں کے اونچے پربت سے اترا تھا

تم بستی سے باہر دھوپ کی سنگت میں

مجھ کو لینے آئے تھے

تم نے میرے لمبے بالوں، نسواری پیراہن کو

کتنے غور سے دیکھی تھا

پھر جیسے تُم نے مجھ کو، میں نے تم کو پہچان لیاج

یاد ہے نا! وہ بے چنی سی

دل کی ممنوعہ گلیوں میں جانے کی

دُور کہیں بُرجوں پر جلتی قندیلیں

چاندیوں کے گیت، تھرکتے پاؤں سے اُڑتی چاندی کے چھینٹوں میں

رقص کی لہروں پر ہلکورے کھاتی آنکھیں

دن کی بارہ دریوں میں

شہر صبا آباد خرام لالہ رخاں

ہر نفسے ہم رنگ پیام لالہ خاں

کھل کھل اانا نیم شگفتہ زخموں کا

اور بہ چاہت دل میں مرجانے کی

گرم لہو کی لوریاں سنتے سنتے ہم

اورنگھنے لگتے تھے رنگیں افسانوں کے گہوارے میں

پھر ہم دنوں

ٹھہرے لمحے کی جنت سے، اپنے ہی اُکسانے پر

مٹی کے دکھ کا بےنام ثمر چکھ کے

ہونے کا، نہ ہونے کا تاوان ادا کرنے نکلے

باہر ایک تماشا ہر سُو بے چہرے انبوہوں کا

سایہ سایہ زلفیں کھولے

دھوپ پرانی دہلیوں پر بیٹھی تھی

گھر کے کچے آنگن میں

بے شکوہ آکھوں سے قطرہ قطرہ گرتی بینائی کی آہٹ سی

بوڑھے ہاتھوں میں رعشہ ناداری کا

زید کے ماتھے کی تختی پہ کھا تھا

یہ مٹی، یہ آل اولاد ستاروں کی

قحط کی فصلیں کیوں ہرساں اُگاتی ہے

اے داتا! ان ناحق مرنے والوں کو

اپنے بخششں سے تو لمبی عمریں دے

آئندہ کی دنیا میں

قصر بہت اونچے تھے عشرت گاہوں کے

جن کے شب زاروں میں پھول مہکتے تھے

بوٹے جیسے قد و قامت کی نوخیز کنیزوں کے

جن کے زینے سے خلقت پر جینے کا انعام اترتا رہتات ھا

آتے جاتے موسم سبز صلیبوں کے

خاک کا دامن بھر جاتے تھے سرخ سجیلے جسموں سے

جبر کے ظلمت خانے میں

خوف، اندھیرے اور دھوئیں کے سنّاٹے

زنگی پہیرداروں کی چنگاڑیں رات کے جنگل میں

گرتے خون کی موسیقی پر رقص برہنہ شہعلوں کا

کیا دیکھا؟ ۔۔۔۔ بے چشم مصنف بستی کی دیواروں پر

سہ پہروں کے سائے لکھتا رہتا تھا

طاقت کے شاہی قلعے ماخذ ساری تہذیبوں کے

جس کے دانش زادوں نے تعمیر کئے

زر کے بیجوں سے اُگتی بحالی کے پس منظرمیں

چمستان ثقافت کے

یاد ہے؟ ہم دنوں نے اپنے سارے خون کی شدت سے

نفرت، نفرت، نفرت کا اقرار کیا

اے شاعر! آ

عمروں کے فاقے سے برفائے ہاتھوں کو بوسہ دیں

روشنیاں اُنڈیلیں ٹھنڈے سینوں میں

اتنی کہ صحبوں کے گھاؤ پڑ جائیں

رّب جبر کی نازل کردہ ظلمت کی پیشانی پر

خواب پرندے اور نشیمن آنکھوں کے

آدم زادے شہر ازل کی گم کردہ جنت کی دھن میں یوں نکلے

جوں عشاق نکلتے ہیں

اے ایام کی مٹتی یاد گوہی دے

ہم فردا کے دزُد اندھیری راتوں میں

روشنیوں کے نعرے دیواروں پہ لکھتے رہتے تھے

لگتا تھا کہ دل نورستہ جذبوں کی طغیانی میں بہہ جائے گا

لیکن کیسے قدآور سالاروں نے

ڈھلتی عمروں کی ٹھنڈی آسائش کے خس خانے میں

منصوبے تیار کئے پسپایء کے

دام بچھائے نافہمیدہ سچائی کی منطق نے

پھر۔۔۔۔ ہم بھی کچھ ایسے تھے

ناآموز شنا اور بحرِ ہمت کے

ڈوبے حیلے اور حوالے کے گدلے گردابوں میں

ہم کیا کرتے

(ہم نے سوچا) بہتر ہے سمجھوتے سے

ہم ابہام کے پیچ و خم میں کھو جائیں

ورنہ یہ جابر سلطان زمانے کا

ہم آزادوں سے مانگے کا جزیہ باجگزاری کا

بہتر ہے کہ سر پہ لے لیں تہمت کم کم جینے کی

کیا ہے؟ غور سے دیکھو تو

زرد بگولے کی مٹھی میں نیک کمائی تنکوں کی

سارے جذبے لا حاصل

اس سے آگے منظر شام سرائے کا

چائے کے مٹیالے گھونٹوں سے گرمائے ہجے میں

پہروں خود چھپ کر خود سے باتیں کرنا

باہر افراتفری ٹوٹے آئینوں کے عکسوں کی

خالی کمرے میں مجمع آوازوں کا

بے پیغام، تہی تمثیلیں معنی اور حوالے کی

ایک تمسخر ہونٹوں پر

لایعنی فعلوں کی زریں فصلیں بونے والوں کا

بس ایسے ہی کاٹ دیا

اکتا دینے والے روز و شب کے آنے جانے میں

ہم نے رہتی عمروں کو

اے شاعر آ

ہجر کے اندر ہجر کے اس دورہے پر

موڑ مڑیں ایسے کہ کوئی منظر پچھلی یادوں کا

نظروں سے روپوش نہ ہو

بچھڑیں لیکن اگلی رت میں پھر ملنے کے وعدے پر

ہم کہ پیوستہ ہیں خون کے رشتے میں

دکھ کے زرد قبیلے سے

دیکھ! یہاں پر

ہجر کے شجرستاں میں کیسے لمبے لمبے سائے ہیں

اے جنموں کے آوارہ! اے ازلوں کے سیلانی آ

دل کے عرش پہ چل کے تارے چنتے ہیں

دلبر سے ملنے سایوں کی بستی میں

پیارے! کل پھر آنا

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s