بے انت کا سپنا

بوڑھا سنو! سنو! جنگلوں کی جانب ابھی نہ جاؤ

وہاں تو ہرجا

چمکتی دہشت کی دھار سے سربریدہ شاخوں

ہلاک پتوں کے حون کی پٹپریاں جمی ہیں

سنو! سنو! جنگلوں کی جانب ابھی نہ جاؤ

سفیدکرگس

تمہارے جسموں کو نچ لیں گے

سیاہ بارود کی مچانوں پہ چھپ کے بیٹھے ہوئے شکاری

چمکتی انکھوں میں قبر کھودیں گے گولیوں سے

سنو! سنو! نوجوان لڑکو

تمہارے ناخن گلاب کی پتیاں ہیں، ان سے

کڑی سلاخوں کو کیسے کاٹوں گے، کیا کرو گے

زمیں کی تختی پہ سارے وقتوں کا فیصلہ کیسے لکھ سکو گے

تم ان سے کالے سمندروں کی تہیں ٹٹولو گے

اور واپس نہ آسکو گے

سنو! سنو! جنگلوں کی جانب ابھی نہ جاؤ

وہاں اندھیرا سلگ رہا ہے

مُدوسا۔ انگ گنت دانت مرے ہا۔ ہا۔ہا

سینکڑئں ہاتھ مرے ہا۔ہا۔ہا

آگ پاکیزہ ہے

میں اگر اپ کی اولاد ہوں، ماں ہوں

تو مقدس ہوں میں

آؤ، سب آؤ، مرے شعلوں میں مدغم ہو جاؤ

یہ مکاں ہیں کہ کھنڈر ہیں، جن کی

کنڈیاں بند ہیں، دانتوں میں دبایء ہوئی سانسوں کی صدا آۃی ہے

کانپتی بلڈنگیں، بے آہ وفغاں، ٹھہرا ہوا واویلا

عورتیں، ہا۔ ہا ۔ ہا

اور بچوں کا بلکنا۔ ہا، ہا

تُو نے اس شہر کے مردوں کو کہاں بھیجا ہے

ٹکٹکی باندھ کے کیوں دیکھتا جاتا ہے مجھے

اے پجاری! تری خواہش کا معظر دریا

بہہ رہا ہے، جس پر

رینگتا ہے مری آواز کا سنسان دھواں

اے ہیہوئے کے مقدس کا ہن!

میں تری ماں ہوں، ترے بیٹوں کی اولاد بھی ہوں

اجنبی گورکنوں کو میں نے

اس جگہ بھیجا ہے

جو مری اگ میں کفنائے ہوئے شہروں کو دفنائیں گے

اسے ہیوئے کے مدس کاہبن!

تو نےاس شہر کے مردوں کو کہاں بھیجا ہے

شہر کیوں خالی ہے

ہا۔ہا۔ہا

میں۔ زید! آچل کے خبروں کے اونچے دھماکے سُنیں

کیا خبربرف کے زخم کھائے ہوئے ہاتھ کی پشت پر

روشنی تیز ریزر سے نیلی رگیں کاٹ دے

اور تیزاب میں دُل کے اُجلے بدن

اپنی تازہ تپش سے مہکنے لگیں

کیاخبر

کنکریٹ اور سیمنٹ کی سخت دیوار پر

تیز بارش کا سبزہ اُگے

زلاید۔ میرے ہمزاد! چائے کی خالی پیالی بڑھا

تیری آنکھوں میں اُگتا ہوا سبز منظر بہت غیر دلچسپ ہے

میں یہاں دس برس سے ہوں بیٹھا ہوا

میں نے دیکھا ہے سیسے کی بیساکھیوں پہ اپاہج دنوں کاسفر

ہاتھ بنجر سہی

پر کئی سال ہم دھوپ میں بیٹھ کے

ناخنوں کی کھڑی فصل کو کاٹنتے ہی رہے

بند کمرے میں آنکھوں کی دیوار پر

لڑکیوں کی سرکتی ہوئی نیم عریاں تصاویر نے

جسم پر رینگتی کیڑیوں کی طرح

گد گدایا ہمیں

روزناموں میں قتل اور اغوا کی خبریں مزے لے کے پڑھتے ہوئے

ہم نے ہاتھوں کو سانسوں سے ٹھنڈا کیا

میرے ہمزاد! تو نے مجھے اور میں نے تجھے

بارہا مات دی

بارہا ہم نے باتوں کی جنگیں لڑیں

میرے ہمزاد! آ آج بھی حست معمول باتیں کریں

آکسی تیسرے شحص کی ذات کو

چُست فقروں کی چوکاٹ میں جڑ کے اک دوسرے کو

دکھاتے پھریں

کورس۔ سفید طاعون حملہ آور ہے

دبا کے نرغے میں آئی بستی کے جسم پر کپکپی ہے طاری

ہماری آنکھوں میں دیکھ بابا!

ہمارے سینوں میں غیب کی روشنی کا سنگیت بج رہا ہے

ہیوئے سے سائیگاؤں تک

آنے والے موسم کی راہ میں ہم

گلاب کیسربریدہ قلمیں لگا رہے ہیں

بہار کاگیت لکھ رہے ہیں

وہ دیکھ بابا!

بموں کی بارش نے تازہ مٹی کے برتنوں کو گھلا دیا ہے

ہمارے بھائی

دھوئیں کے جنگل میں ہم سے غافل

لہو کی چادر میں سو رہے ہیں

انہیں جگانا ہے اور جانا ہے آسماں تک

جہاں سے ہم سبزد دیو مالال کا اسم اعظم

زمیں پہ پھونکیں گے اور کبڑی زمیں کے سب بل نکال دیں گے

میں۔ رات بھر اسماں اور میں

مرد و زن طرح اپنے سینوں کو باہم ملائے ہوئے

نیم بے ہوش کیفیتوں میں اندھیرے کی سرگوشیاں

سن رہے تھے

صدا اپنے مرکز سے محور کی جانب رواں

بے خزاں وقت ذروں کو لہریں بناتے ہوئے

اور لہروں کو نابود کرتے ہوئے

زندگی۔۔ موت۔۔ لاانتہا

خون کیاوس ہی آسمان و زمیں، بحر و بر اور مخروط کی

نوک سے دائرہ تک کا پیہم سفر

اے خدا! تُو اکائی بھی، لاانتہا بھی، اکیلا بھی ہے اور

انبوہ بھی، زلزلے، آندھیاں، بے حسی۔۔ موت یا نیند

کی بے حسی۔۔ سب کے سب تیرے مظہر ہیں۔۔ تو کیا ہے

اے جاگتوں کے خدا! اے سلگتے اندھیروں کے آقا

تجھے کون سا نام دوں۔۔ تیرے اوراق پہ روشنائی کے

ساتوں سمندر ہیں پھیلے ہوئے

وہم کی روشنی اتنی کم ہے یا اتنی زیادہ ہے

رستوں کا مقصد سرابوں میں غرقاب ہے، خواب کی

سب نے سب سے ہمیشہ کہا

موت کی بادشاہت میں آنکھوں کے پرچم کو اونچھا رکھو

قاف کی چوٹیوں پہ کھڑے

سب نے سب سے ہمیشہ کہا

آخری جنگ کے بعد تابہ ابد نور ہی نور ہے

اے خدا تیرے منشور و آیات کی خیر ہو

کیا یہی آخری جنگ ہے؟

ایک آواز: کھیسان کی سولی ٹوٹ چکی

اب شہر پناہوں کے باہر

چوبی لشکر پھر چوکس ہے

کیا مرکو سیاست کی قوت

پھر جیتے گی

اندازے کی بالشتوں سے کیا ناپتے ہوئ

نسوانی لمس خوش آمد کا

اچھا لگتا ہے کیا کیجے

سب بزدل میں

بیماروں کے اس میلے میں

کُل سوچوں ، سارے وقتوں کا

انداز وہی ہے ، جو کل تھا

دوسری آواز فلسفے سب فلسفے

دلدلیں، اُبلے ہوئے لاوے ، پرانی گیس کے اندھے کنوئیں

نصف دائیں دھڑکی اقلیدس تمہیں

لائنوں اور زاویوں کی مختلف اشکال میں

اور تہذیب و ثقافت، مذہب و جغرافیہ کے جال میں

جکڑے ہوئے

تم کو تم پر فاش کر سکتی نہیں

تم کہ ہو

سام کی بورھی حکومت کی عصا

تم کہ ہو

تہ بہ تہ، پردہ بہ پردہ ان گنت اوہام میں لپٹے ہوئے

کھولتے خوں کے چمتے سورجوں کو

بزدلی یا مصلحت یا فیصلے کے ضعف کی پھونکیں

بجھا سکتی نہیں

تم سمجھتے ہو کہ شاید آسماں کی جبرکا طوفاں اڑا لے جائے گا

تم سمجھتے ہو تمہاری خندقیں سیلاب کی زد میں نہیں

اس طرف دیکھو جہاں

نوجواں لڑکوں نے اپنے ناخنوں سے آہنی دیوار کو

کر دیا ہے ناتواں

زندہ باد اے ویت نام

بورھا۔ جوان لڑکو! تمہاری مائیں

جلی ہوئیں بستیوں کے ملبے پہ آنسوؤں کی

چمکتی مالائیں لے کے برسوں سے منتظر ہیں

زمیں کو رعشہ سا ہو گیا ہے

تم آؤ گے اور تم نہ آؤ گے اور وہ منتظر رہیں گی

جوان لڑکو!

بموں کی بارش میں آگ کے پیڑ اُگ رہے ہیں

زمیں کی چھت سے دھوئیں کے جالے لٹک رہے ہیں

بہار کی دلہنیں کہاں ہیں؟

سنا ہے وہ بھی

تمہارے ہمراہ آرہی ہیں

(سنا ہے وہ بین کر رہی ہیں)

نہیں، نہیں، تم ضرور آؤ گے، آخری جنگ۔۔ ساری

سوچوں کا،سارے وقتوں کا فیصلہ کرنے والے لڑکو!

تم آؤ گے اور تم نہ آؤ گے اور ہم منتظر رہیں گے

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s