اپنے ہونے کی سزا

دیکھ!

اُس بے سقف کمرے میں بجھے تاروں کی بارش کا سماں

سُن!

شکستہ آئینے کی کرچیوں پر رینگتے لمحوں کا شور

کھٹکھٹاتا ہے گلی کے بند دروازوں کو

پاگل پیل مرد

اور مسجد کے قریب

ہو گیا ہے خود بخود دو نیم برگد کا درخت

شہر میں بے ربط آوازیں۔۔۔

درندوں، وحشیوں کے قہقہے

اور اس نظارہ و آواز کے ملبے میں

چشم و گوش بے نام و نشاں

بے خروش

آنکھ کا سیلاب کب کا تھم چکا

اب حقارت کی سیہ صرصر بیابانوں میں چلتی ہے سدا

پر کسی تاریک گوشے میں ابھی تک ٹمٹماتا ہے

کسی نادار خواہش کا چراغ

اور مرجھائی ہوئی کرنوں میں کوئی ڈھونڈتا رہتا ہے

امکانِ بہار

درد کے اہرام سے باہر نکل آئے کبھی

جس کے تہ خانوں کی سب پُرپیچ راہوں، چوردروازوں

دربیروں کا رستہ

بے زباں گونگے محافظ جانتے ہیں

پر بتا سکتے نہیں

اور وہ صدیوں پرانی چھت کو دُزدیدہ نظر سے دیکھ کر

سوچتا ہے کس طرح کچھ سال پہلے

شہر کے اک خانہءِتاریک میں

دب گیا تھا بے خطا

طفلِ یتیم

کوچہ و بازار میں رسوا خیال

گوش برآواز ہیں

جابجا بکھرے ہوئے پیتل کے ارزاں قہقہے

چوک میں لٹکی ہوئی بوڑھے مؤذن کی صدا

اور کج پیکر مکیں

کھینچتے پھرتے ہیں بازاروں میں

ستواں جسم پورس کی برہنہ لاش کو

آنکھ، اس تاریک زنداں کی اسیر

دیکھتی ہے اِن سلاخوں سے پرے سب واہمہ ہے

سب سراب

(اپنے ہونے کی سزا)

کل بھی تھا وہ اجنبی لوگوں میں تنہا۔۔۔ بے رفیق

مرد و زن ترشے ہوئے شیشے کی آنکھوں سے اُسے

دیکھتے تھے اور نفریں قہقہے سے

پھیر لیتے تھے نظر

اُس کی رفعت سے کہیں کم ترنگاہیں

اپنی پستی سے زیادہ پست۔۔۔ کیسے دیکھتیں

اس کی رخشندہ جبیں

وہ کسی فردا کے نادیدہ جہاں کا منتظر

بے ثمر، یکساں دنوں کی ایک سی رفتار سے

نامطمئن

چاہتا تھا اپنی آہِ سرد سے

یہ سدا جلتا ہوا سورج بُجھا دے

وہ ہمیشہ بے امّاں

دھوپ سے پگھلے ہوئے جسموں کو ہر دم چاٹتی چابک کی زہریلی صدا

سنتا رہا

جس نے دیکھے خوں چشیدہ کھیت میں اُگتے ستوں

جبر کے اونچے محل

وہ کسی فردا کے نادیدہ جہاں کا منتظر

اجنبی شہروں میں سرگرداں رہا

دل۔۔۔ ہوا میں کانپتا پتہ۔۔۔ ہمیشہ مضطرب

روز و شب کے معنی و اسلوب سے نامطمئن

چاہتا تھا توڑ دے خودبیں خداؤں کے سیہ آئین کو

مشرق و مغرب میں حائل فاصلے کو پاٹ دے

خود ستائش گر نطر سے

چھین لے وہ عکس جو آئینہ گر کا فیض تھا

اور دھو دے

بے بصر دل کی سیاہی

جسم و جاں کی سلوٹوں سے خوف و اندیشہ کا میل

تاکہ مل جائے انہیں

دائمی ساعت کا بے پایاں سکوں

شہر میں سرکش

اناؤں کی سدا جلتی ہوئی آندھی کازور

ناتواں پیڑوں کو گرتا دیکھ کر

کف اڑاتا ہے کسی سفاک، بے ساحل سمندر کا جنوں

اس سمندر کو ابھی تک یاد ہے

اَن گنت، بھولی ہوئی جنگوں کا حال

اولیں سایہ ابھی تک

کوئی کیوں سوچے کہ اُس کے خون میں محفوظ ہے

کوئی کیوں سوچے کہ اُس کا اولیں سایہ

پرانی رزم گاہوں میں لہو پیتا رہا

(اپنے ہاتھوں قتل ہونے سے اُسے ہوتا تھا جیسے اپنے ہونے کا گماں)

اور اس لا انتہا لذت سے ملتا تھا اُسے

ایک لحظہ کے لئے اس دائمی ساعت کا بے پایاں سکوں

جو گھنے جنگل میں رکھتی تھی

اُسے آئندہ و رفتہ کے اندیشے سے دور

(آنکھ تھی ہر واہمے سے بے نیاز)

اس گھنے، لاانتہا جنگل کی سرحد بن گئی

نیم روشن آگہی

اور پھر اپنی اَنا۔۔

جسم و جاں کا اولیں سایہ ہوا گرم ستیز

(دائمی ساعت کے کھو دینے کے دکھ کا انتقام)

آگہی نے کتنی زنجیں بنائیں

تاکہ جنگل کی ہوا کو، رینگتے بے جسم سائے کو

کسی حیلے سے کر لے زیرِ دام

پر سدا چلتی ہوئی

اک چراغ چشم کی انگشت بھر لو سے کہاں تھمتی

کہ وہ ہر ضابطے کی قید سے آزاد تھی

اپنے ہونے کا صلہ ہے

بے کراں ساعت کی بے صرفہ تمّنا کا عذاب

بے ثمر خوابوں کا دکھ

کل بھی کوئی آئے گا طرح دگر پر

شہر نو تعمیر کرنے کے لئے

اور اُس کی دکھ بھری آواز

غُراتی مشینوں، اجنبی لوگوں کے ارزاں قہقہوں کے شور میں

کھو جائے گی

دُکھ کی سلِ دل پر اٹھائے

کوچہ و بازار میں تنہا پھرے گا

اور سوچے گا

کہ اس تاریک زنداں سے پر

سب واہمہ ہے، سب فریب

(اپنے ہونے کی سزا)

آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s