ہو گئے مست عاشقانِ غزل

غزل نمبر 79
(مختار صدیقی کے لئے)
دیکھ کر تجھ میں کچھ نشانِ غزل
ہو گئے مست عاشقانِ غزل
یہ ادائیں، یہ حسن، یہ تیور
تجھ پہ ہونے لگا گمانِ غزل
تیری باتوں کا لطف آتا ہے
اتنی رنگین ہے زبانِ غزل
ہے عبارت غزل سے تیرا غرور
اور قائم ہے تجھ سے شانِ غزل
نت نئے روپ میں ابھرتا ہے
تیرا غم ہے مزاج دانِ غزل
دل کا ہر زخم بول اٹھتا ہے
جب گزرتا ہے کاروانِ غزل
وقت کے ساتھ رخ بدلتا ہے
ہر گھڑی ہے نیا جہانِ غزل
اور بھی کچھ طویل کر دی ہے
غم ہستی نے داستانِ غزل
کچھ طبیعت اداس ہے باقیؔ
آج دیکھا نہیں وہ جانِ غزل
(مختار صدیقی)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s