ہنس پڑی دیکھ کر بہار ہمیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 117
تھا میسر نہ ایک تار ہمیں
ہنس پڑی دیکھ کر بہار ہمیں
اتنا خود پر بھی اعتبار نہیں
جتنا تجھ پر ہے اعتبار ہمیں
اب محبت کا یہ تقاضا ہے
کاکلوں کی طرح سنوار ہمیں
زخم دل دیکھ کر خیال آیا
تجھ پہ کتنا تھا اعتبار ہمیں
تیری نظروں پہ حرف آتا ہے
ورنہ دل پر ہے اختیار ہمیں
غیر سے اس طرح ملے جیسے
مل گیا کوئی غمگسار ہمیں
دلِ پُر درد کا تقاضا ہے
دوستوں کی طرح پکار ہمیں
بارہا وقت نے دئیے باقیؔ
پھول کے رنگ میں شرار ہمیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s