باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 99
پہچان سکے نہ تیرے ڈھب تک
ہم جانے کہاں رہے ہیں اب تک
کیا کیا تھے اصول زندگی کے
مشکل نہ پڑی تھی کوئی جب تک
وہ بات بھی رائیگاں گئی ہے
آئی جو بصد حجاب لب تک
آئے نہ خیال میں کسی کے
ہم بیٹھے رہے خموش کب تک
کیوں زیست کے منتظر ہو باقیؔ
آتا نہیں یہ پیام سب تک
باقی صدیقی