ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 89
نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو
کھڑا ہوں دل کے دوراہے پہ ہاتھ پھیلائے
چھپائے چھپتے نہیں زندگی کے غم اب تو
نئے خیال نئے فاصلوں کے ساتھ آئے
نہ مل سکیں گے کسی راستے پہ ہم اب تو
مسافران محبت کا انتظار نہ کر
کہ دل میں آ گئے راہوں کے پیچ و خم اب تو
نکل گیا ہے سفینہ ترا کدھر باقیؔ
صدائیں آتی ہیں ساحل سے دم بہ دم اب تو
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s