گئے جس در پہ تیرے در کے سوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 38
کچھ بھی پایا نہ درد سر کے سوا
گئے جس در پہ تیرے در کے سوا
یوں پریشاں ہیں جیسے حاصل شب
آج کچھ اور ہے سحر کے سوا
کس کے در پر صدا کریں جا کر
وا نہیں کوئی اپنے در کے سوا
کل تو سب کچھ تھی آپ کی آمد
آج کچھ بھی نہیں خبر کے سوا
وائے ہنگامہ جیسے کچھ بھی نہیں
کارواں شور رہگزر کے سوا
یہ نشیمن یہ گلستاں باقیؔ
اور سب کچھ ہے بال و پر کے سوا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s