کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 41
کبھی حرم پہ کبھی بتکدے پہ بار ہوا
کہیں کہاں ترا دیوانہ شرمسار ہوا
گزر گیا ہے محبت کا مرحلہ شاید
ترے خیال سے بھی دل نہ بے قرار ہوا
تمہاری بزم میں جب آرزو کی بات چھڑی
ہمارا ذکر بھی یاروں کو ناگوار ہوا
چمن کی خاک سے پیدا ہوا ہے کانٹا بھی
یہ اور بات کہ حالات کا شکار ہوا
نسیم صبح کی شوخی میں تو کلام نہیں
مگر وہ پھول جو پامالِ رہگزار ہوا
روش روش پہ سلگتے ہوئے شگوفوں سے
کبھی کبھی ہمیں اندازۂ بہار ہوا
فسانہ خواں کوئی دنیا میں مل گیا جس کو
اسی کی ذکر فسانوں میں بار بار ہوا
کس انجمن میں جلایا ہے تو نے اے باقیؔ
ترا چراغ، چراغِ سرِ مزار ہوا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s