کون اے دوست باریاب نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 137
میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
کون اے دوست باریاب نہیں
بار دنیا نہ اٹھ سکا تو کیا
زندگی میرا انتخاب نہیں
دل کی تسکیں بھی چاہتا ہوں میں
میرا مقصد فقط جواب نہیں
اک نہ اک چیز کی کمی ہی رہی
کبھی ساغر کبھی شراب نہیں
دل کو کیونکر فریب دیں باقیؔ
غم حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s