کوئی سوئے قفس گیا تو کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 69
ابر گلشن برس گیا تو کیا
کوئی سوئے قفس گیا تو کیا
زندگی کا نشاں کہیں ملتا
اک نیا شہر بس گیا تو کیا
شعلہ گل ہے اور صحن چمن
میرا دل بھی جھلس گیا تو کیا
راہ کا سانپ ہے گھنا سایہ
راہگیروں کو ڈس گیا تو کیا
زندگی اب اسی ہجوم سے ہے
سانس کو دل ترس گیا تو کیا
کوئے آوارگاں میں ہم پر بھی
کوئی آوازہ کس گیا تو کیا
کوئی چونکا نہ خواب سے باقیؔ
دور شور جرس گیا تو کیا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s