کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 123
اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں
کوئی دیکھے تو نظر آتے ہیں
رنگ تصویر میں بھرنے والے
پس تصویر ہوئے جاتے ہیں
تیرے ارماں میں کہ اندوہ جہاں
دل میں کچھ سائے سے لہراتے ہیں
دھیان غربت کی طرف جاتا ہے
یاد ارباب وطن آتے ہیں
یہ غم دل، یہ شب تنہائی
سوچتے سوچتے سو جاتے ہیں
جب قدم رکھتے ہیں گھر میں باقیؔ
سینکڑوں حادثے یاد آتے ہیں
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s