کوئی بھی نہ دے سکا سہارا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 1
جب گھیر کے بے کسی نے مارا
کوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشارا
کچھ اور بھی دور اب خدا را
خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
احساس ملا ہے سب کو لیکن
چمکا ہے کوئی کوئی ستارا
ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش
ملتا ہے کہیں کہیں سہارا
کھاتے گئے ہم فریب جتنے
بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا
کس طرح کٹے گی رات باقیؔ
دن تو کسی طور سے گزارا
اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے
ہر چند یہ راز تھا تمہارا
اس طرح خموش ہیں وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
حالات کی نذر ہو نہ جائے
باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s