کس کو ہے دماغ زندگی کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ہر داغ ہے داغ زندگی کا
کس کو ہے دماغ زندگی کا
دیتے رہے لو بہار کے زخم
جلتا رہا باغ زندگی کا
کس کس کے جگر کا داغ بن کر
جلتا ہے چراغ زندگی کا
کچھ آپ کی انجمن میں آ کر
ملتا ہے سراغ زندگی کا
پوچھو نہ مآل شوق باقیؔ
دل بن گیا داغ زندگی کا
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s