کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 171
شفق کی آگ کہانی کوئی سنانے لگی
کسی کے خون کی بو راستوں سے آنے لگی
ملی ہے ایک زمانے کو روشنی جن سے
ہوائے دہر وہی مشعلیں بجھانے لگی
تھا جس خیال پہ قائم حیات کا ایواں
اسی خیال سے تلخی دلوں میں آنے لگی
سحر کے آئنے کا کوئی اعتبار نہیں
کلی تو دیکھ کے عکس اپنا مسکرانے لگی
میں اپنے دل کے بھنور سے نکل نہیں سکتا
تمہاری بات تو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی
گلوں کے منہ میں زمانے نے آگ رکھ دی ہے
بہار اپنا ہی خوں پی کے لڑکھڑانے لگی
نسیم گزری ہے زنداں سے اس طرح باقیؔ
شکست دل کی صدا دور دور جانے لگی
باقی صدیقی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s